خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 560

خطبات محمود 560 $1944 نصیحت کرنے لگ گئے ہو۔بلکہ وہ مجبور ہوتے ہیں کہ اُس کی نصیحت پر کان دھریں اور اُس کی بات کو تسلیم کریں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نصیحت کرنے والا بالکل ہمارے جیسا ہے۔یہ بھی اسی عمر کا ہے جو ہماری عمر ہے۔اس کا بھی ویسا ہی دل ہے جیسا ہمارا دل ہے۔اس کے اندر بھی ویسے ہی جذبات اور احساسات ہیں جیسے جذبات اور احساسات ہمارے اندر ہیں۔لیکن جب یہ بھی ہمیں نصیحت کر رہا ہے تو ہمیں ضرور اس کی بات پر غور کرنا چاہیے۔اور اگر کچھ نوجوان ایسے بھی ہوں جو اُس کی نصیحت پر عمل کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو کم سے کم وہ اعتراض کا کوئی اور طریق اختیار کریں گے یہ نہیں کہیں گے کہ خود جوانی کی عمر میں مزے اٹھا کر اب ہمیں روکا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم نیکی کی طرف توجہ کریں۔اسی طرح بچے بچوں کے ذریعہ بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور بوڑھے بوڑھوں کے ذریعہ باتیں سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں۔اگر کسی بوڑھے کے پاس کوئی نوجوان جا کر کہے کہ جناب! فلاں بات اس طرح ہے اور آپ اس طرح کر رہے ہیں تو وہ فوراً اس کی بات سنتے ہی کہہ دے گا کہ میاں! کوئی عقل کی بات کرو۔تم ابھی تی کل کے بچے ہو اور میں بوڑھا تجربہ کار ہوں۔تم ان باتوں کی حقیقت کو کیا سمجھو۔میں خوب جانتا ہوں کہ بات کس طرح ہے اور نیکی اور تقوی کا کونسا پہلو ہے۔اسی طرح اگر کوئی بچہ بوڑھے کو نصیحت کرے تو وہ نصیحت کی بات اس بچہ کے منہ سے سُن کر ہنس پڑے گا اور کہے گا یہ پاگل ہو گیا ہے۔ابھی تو خود ناتجربہ کار ہے۔بچپن کے زمانہ میں ہے اور نصیحت مجھے کر رہا ہے۔لیکن اگر بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے تو وہ ضرور اُس نصیحت پر کان دھرے گا۔کیونکہ وہ نہیں کہہ سکتا کہ تم تجربہ میں مجھ سے کم ہو میں تمہاری بات کس طرح مان سکتا ہوں۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ ”ہم عمر “ ہی اپنے ”ہم عمروں “ کو اچھی طرح سمجھا سکتے ہیں۔بلکہ میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ اگر عمر میں پانچ دس سال کا فرق ہو تب بھی مہینہ دوسرا شخص سمجھتا ہے کہ میں تو اوروں کو نصیحت کرنے کا حق رکھتا ہوں۔مگر کوئی دوسرا شخص جو عمر میں مجھ سے کم ہے چاہے چند سال ہی کم ہو یہ حق نہیں رکھتا کہ مجھے نصیحت کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں صدر انجمن احمدیہ کے اجلاس میں جب مختلف معاملات بحث ہوتی تو بسا اوقات خواجہ کمال الدین صاحب پر