خطبات محمود (جلد 25) — Page 559
خطبات محمود 559 $1944 کہتے ہیں کہ کوئی بچہ تھا جو مکان کی چھت پر چڑھ کر اُس کے کنارہ کی طرف چلا گیا اور آہستہ آہستہ ایسی جگہ پہنچ گیا کہ قریب تھا وہ نیچے گر جائے۔وہ چھت کے کنارے پر کھڑے ہو کر بازار کی طرف جھانک رہا تھا کہ اُس کی ماں نے اسے دیکھ لیا اور اس نے گھبر اگر اسے پکڑنا چاہا ہے تا کہ وہ کہیں نیچے نہ گر جائے۔بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کو پکڑنے کے لیے کوئی ہے دوڑے تو وہ اور آگے کی طرف بھاگتے ہیں۔جب اُس کی ماں نے گھبراہٹ کی حالت میں اُسے پکڑناچاہا تو کسی سمجھدار انسان نے اُسے دیکھ لیا اور اُسے کہا کہ یہ بے وقوفی نہ کرنا۔اگر تم نے ایسا کیا تو بچہ آگے کی طرف دوڑے گا اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ نیچے گر جائے گا۔اگر تم بچے کو آرام ہے سے نیچے اتارنا چاہتی ہو تو اس کا طریق یہ ہے کہ اس کے پیچھے کی طرف کوئی بچہ لا کر بٹھا دیا جائے۔اُسے دیکھ کر یہ پیچھے کو مڑ جائے گا۔اور یا کوئی شیشہ رکھ دیا جائے اس شیشہ کو جب یہ دیکھے گا تو اپنا عکس اُس میں دیکھ کر خیال کرے گا کہ یہ بھی کوئی بچہ ہے اور جب یہ اُس کی طرف جھکے گا تو سمجھے گا کہ دوسرا بچہ بھی میری طرف جھک رہا ہے۔اس طرح وہ دوسرے بچہ کے خیال کے ماتحت اُسی جگہ بیٹھ جائے گا اور اس کے گرنے کا خطرہ جاتارہے گا۔چنانچہ وہ شیشہ لائی یا کوئی بچہ لا کر اُس کے پیچھے بٹھا دیا اور اس طرح اس بچہ کو سلامتی کے ساتھ نیچے اتار نے میں کامیاب ہو گئی۔تو دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ ایک قسم کی چیزیں ایک دوسرے کی طرف زیادہ جھکتی ہے ہیں۔نوجوان قدرتی طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ بوڑھوں کا کیا ہے وہ اپنی عمریں گزار چکے ہیں اور ہم وہ ہیں جو ابھی جوانی کی عمر میں سے گزر رہے ہیں۔اس وجہ سے اگر کوئی بوڑھا انہیں میں نصیحت کرے کہ اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ، اپنے اشغال اور افعال میں نیکی اور تقوی مد نظر رکھنا چاہیے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو اخلاق اور مذہب کے خلاف ہو۔تو وہ اُس کی بات کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں، اُس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور خیال کرتے ہیں بوڑھوں کا کیا ہے یہ اپنے وقت میں تو مزے اُٹھا چکے ہیں اور اب ہمیں نصیحت کرنے لگ گئے ہیں کہ ہم ہر قسم کے کاموں سے اجتناب کریں۔لیکن اگر ویسی ہی نصیحت انہیں کوئی نوجوان می کرے تو وہ اس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم اپنی عمر عیش و عشرت میں گزار کر اب ہمیں ہے