خطبات محمود (جلد 25) — Page 561
خطبات محمود 561 $1944 مولوی محمد علی صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب ایک طرف ہوتے اور بعض دوسرے دوست دوسری طرف ان میں سے شیخ رحمت اللہ صاحب مولوی محمد احسن صاحب امر وہی سے عمر میں صرف چار پانچ سال چھوٹے تھے۔مگر میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ جب آپس میں کسی ہے بات پر بحث شروع ہو جاتی تو مولوی محمد احسن صاحب امروہی شیخ رحمت اللہ صاحب کے مخاطب کر کے کہتے کہ تم تو ابھی کل کے بچے ہو ، تمہیں کیا پتہ کہ معاملات کو کس طرح طے کیا جاتا ہے۔میرا تجربہ تم سے زیادہ ہے اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہی درست ہے۔حالانکہ مولوی محمد احسن صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کی عمر میں صرف چار پانچ سال کا فرق تھا۔مگر چار پانچ سال کے تفاوت سے ہی انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ دوسروں پر حکومت کروں، مجھے حق حاصل ہے کہ میں دوسروں کو نصیحت کا من سبق دوں اور اُن کا فرض ہے کہ وہ میری اطاعت کریں اور جو کچھ میں کہوں اس کے مطابق ہے عمل بجالائیں۔پس ایسی صورت میں اگر کوئی نوجوان کسی بوڑھے کو نصیحت کرے گا تو یہ صاف ہے بات ہے کہ بجائے نصیحت پر غور کرنے کے اُس کے دل میں غصہ پیدا ہو گا کہ یہ نوجوان مجھے ہے نصیحت کرنے کا کیا حق رکھتا ہے۔اس طرح بجائے بات کو ماننے کے وہ اور بھی بگڑ جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ انسان ایک بچہ کے منہ سے بھی نصیحت کی بات سن کر سبق حاصل کر لیتا ہے۔مگر ایسا شاذ و نادر کے طور پر ہوتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ ایک نوجوان کے منہ سے کوئی بات سن کر ایک بوڑھا انسان بھی سبق حاصل کر سکتا ہے۔مگر ایسا بہت کم اتفاق ہوتا ہے۔عام طور پر عمر کے تفاوت کے ماتحت چاہے ایک بڑی عمر والا بیوقوف ہی کیوں نہ ہو وہ چی یہی سمجھتا ہے کہ میر احق ہے کہ میری بات کو مانا جائے کیونکہ میں بڑی عمر کا ہوں دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مجھے نصیحت کرے یا مجھے کسی نقص کے اصلاح کی طرف توجہ دلائے۔یہی حکمت ہے جس کے ماتحت میں نے انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تاکہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔بچے بچوں کی نقل کریں، نوجوان نوجوانوں کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں کی نقل کریں۔جب بچے اور نوجوان اور بوڑھے سب اپنی اپنی جگہ یہ دیکھیں گے کہ ہے