خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 421

خطبات محمود - 421 $1944 اور چند دنوں میں ہی سچائی کو قبول کر کے اسلام اور احمدیت میں شامل ہو جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں اگر سو میں سے ایک میں بھی یہ درد ہوتا، اگر سو میں سے ایک میں بھی یہ جنون ہو تا تو سو غیر احمدیوں میں سے پچاس اب تک احمدیت کو قبول کر چکے ہوتے اور ہماری جماعت کی تعداد می پانچ لاکھ نہ رہتی بلکہ اب تک وہ پچاس لاکھ سے بھی متجاوز ہو چکی ہوتی۔کیونکہ ہر آدمی کے دس، ہیں، پچاس، سورشتہ دار ہوتے ہیں اور وہ اُن کو آسانی سے تبلیغ کر سکتا ہے۔بہر حال اب وقت آگیا ہے کہ جماعت تبلیغ کی طرف خاص طور پر توجہ کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ اب ہماری جماعت ہندوستان سے باہر تو زیادہ پھیلنی شروع ہو گئی ہے اور ہندوستان میں اس کی اشاعت کم ہونی شروع ہو گئی ہے۔چنانچہ اس وقت دونوں کی آپس میں جو نسبت ہے وہ نہایت ڈراؤنی صورت اختیار کر رہی ہے۔میرے نزدیک سارے ہندوستان میں ہماری معلومہ جماعت اب تک تین لاکھ کے قریب ہے اور ہندوستان کے باہر دوسرے ممالک میں ہماری جماعت کی تعداد دولاکھ کے قریب ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سال دو سال کے اندر اندر بیرونی ممالک کے احمدیوں کی تعداد ہندوستان کے برابر ہو جائے گی۔لیکن جڑ اور درخت کی یہ ایک خطرناک نسبت ہے جو دکھائی دے رہی ہے۔جس جماعت نے مبلغین تیار کرنے ہوں، جس جماعت نے مذہب کی حفاظت کا کام سر انجام دینا ہو اُس جماعت کی بنیاد بہت زیادہ وسیع ہونی چاہیے۔ہٹلر نے جس وقت جرمنی پر قبضہ کیا ہے اُس نے ایک کتاب لکھی جس میں اُس نے اس امر پر بہت لمبی بحث کی ہے۔اس کے کام خواہ ہم کتنے ہی ظالمانہ سمجھیں، اس نے اپنی کتاب میں یہ ایک نہایت ہی لطیف بات لکھی ہے کہ کوئی قوم جو حکمرانی کرنا چاہے وہ دنیا پر حکمرانی نہیں کر سکتی جب تک اُس کے ملک کی آبادی وسیع نہ ہو۔وہ کہتا ہے عمارت بنانے کا اصول یہی ہے کہ بنیاد ہمیشہ موٹی تیار کرتے ہیں اور اُس پر عمارت بنیاد کے مقابلہ میں چھوٹی تیار ہوتی ہے۔اگر دوفٹ کی دیوار بنانی ہو تو بنیاد تین فٹ رکھیں گے۔اگر چارفٹ کی دیوار بنانی ہو تو ؟ بنیاد چھ فٹ رکھیں گے۔کیونکہ اگر بنیاد وسیع نہ ہو تو وہ بوجھ کو سہار نہیں سکے گی اور جو عمارت تیار ہو گی وہ بنیاد کے مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے گر پڑے گی۔اسی طرح جس ملک کو میں خدا تعالیٰ صداقت اور ایمان کے لیے پہنتا ہے اُس ملک میں بھی صداقت کے پیروؤں کی