خطبات محمود (جلد 25) — Page 422
خطبات محمود 422 $1944 بہت زیادہ تعداد ہونی چاہیے۔شروع شروع میں تو ہندوستان میں ہماری جماعت کی تعداد زیادہ تھی اور بیرونی ممالک میں کم تھی۔اگر ہندوستان میں پانچ دس ہزار احمدی تھے تو باہر چند سو سے زیادہ نہیں تھے اور اگر ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی تو بیرونی ممالک می میں پندرہ بیس ہزار تک احمدیوں کی تعداد ہو گئی۔مگر اب ان دونوں نسبتوں میں بڑا بھاری فرق پیدا ہو تا جارہا ہے۔جہاں تک بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کی تعداد کا ترقی کرنا ہے ہم اسے خدا کا فضل سمجھتے ہیں۔لیکن جہاں تک ہندوستان میں ہماری جماعت کی تعداد کا کم ہو جانا ہے یہ ایک نہایت ہی تشویش ناک امر ہے۔بیرونی ممالک میں سے سماٹرا، جاوا اور بورنیو کی جماعتوں کو ملا کر۔اسی طرح افغانستان کی جماعت کو (گو یہ جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے ہی قائم ہے ) اور مشرقی افریقہ کی جماعتوں کو ملا کر ، پھر فلسطین اور مصر وغیرہ کی جماعتیں ملا کر بہت بڑی تعداد بن جاتی ہے۔اس کے بعد ہم مغربی ہے افریقہ میں چلے جائیں تو وہاں بھی مختلف علاقوں میں ہزاروں احمد کی پائے جاتے ہیں۔اسی طرح ہے یورپ کے مختلف حصے ہیں جہاں احمدی پائے جاتے ہیں، امریکہ کے کئی علاقے ہیں جہاں جماعتیں قائم ہیں۔دنیا کے بعض ممالک تو ایسے ہیں کہ وہاں ہیں ہیں، تیس تیس ہزار احمدی موجود ہیں۔ان ساری جماعتوں کو ملا لیا جائے تو بیرونی ممالک میں دولاکھ کے قریب احمدی بن جاتے ہیں۔اگر بیرونی ممالک کی جماعتیں اسی طرح بڑھتی چلی گئیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ کفر پر حملہ کی ابتدا ان کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور ہندوستان کی مرکزیت جاتی رہے گی۔چونکہ موجودہ زمانہ میں دین کا آغاز قادیان سے ہوا ہے اور دین کی باتیں صحیح طور پر جاننے والے ہی قادیان کے ہی لوگ ہیں اس لیے دینی امور کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق قادیان ہی رکھتا ہے۔مگر جب بیرونی ممالک کے احمدی تعداد میں زیادہ ہو جائیں گے تو وہ دینی امور کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس طرح عیسائیت جب مرکز میں کمزور ہو گئی اور باہر زیادہ پھیلنی شروع ہو گئی تو انہوں نے عیسائیت کو اپنے رنگ میں ڈھال لیا اور می بجائے توحید کے تثلیث کا عقیدہ اختیار کر لیا۔اسی طرح اگر مرکز میں احمدیت کمزور ہو گئی تو باہر کے لوگ دینی امور کی باگ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے اور چونکہ وہ احمدیت سے