خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 420

$1944 420 خطبات محمود ابھی تک ہماری جماعت میں یہ احساس پوری طرح پیدا نہیں ہوا۔ہر دل دُکھیا نہیں ، ہر دل میں اسلام کی وہ محبت پائی نہیں جاتی جو انسان کو دیوانہ اور مجنون بنا دیتی ہے۔ہزاروں انسان ایسے ہیں جن کے باپ، جن کی مائیں، جن کے بھائی، جن کی بہنیں، جن کے چچا، جن کے بھیجے، جن کے ماموں، جن کے بھانجے اور جن کے دوسرے کئی رشتہ دار غیر احمدی ہیں۔وہ اُن ملتے جلتے ہیں، وہ اُن سے ہر طرح کے تعلقات رکھتے ہیں لیکن اُن کے دلوں میں یہ درد پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اُن کو بھی احمدی بنائیں۔بے شک وہ اتنا کر لیتے ہیں کہ جب مجھ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ ہمارا باپ احمد کی ہو جائے ، ہماری والدہ احمدی ہو جائے، ہمارا بھائی احمدی ہو جائے، ہماری بہن احمدی ہو جائے ، ہمارا فلاں رشتہ دار احمدی ہو جائے۔مگر یہ رسمی بات تو ہر کوئی کہہ سکتا ہے۔اگر واقع میں ان کے دلوں میں درد ہوتا کہ وہ کیوں ابھی تک احمدیت میں شامل نہیں ہوئے تو میں سمجھتا ہوں وہ کھانا پینا اپنے اوپر حرام کر لیتے اور اپنے اپنے غیر احمدی عزیزوں اور رشتہ داروں کے پاس جا کر بیٹھ جاتے اور کہتے یا ہم مر جائیں گے اور میں یا پھر آپ کو ہدایت منوا کر رہیں گے۔ہم اُس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے ، ہم اُس وقت تک پانی نہیں پئیں گے جب تک آپ ہم سے کھل کر باتیں نہ کر لیں اور ہم پر یہ ثابت نہ کر دیں کہ ہم ایک غلط راستہ پر جارہے ہیں۔اور یا پھر آپ نہ مان لیں کہ ہم سچائی پر ہیں اور آپ ایک غلط راستہ پر جارہے ہیں۔ہم اس وقت تک یہاں سے ہلیں گے نہیں جب تک اس بات کا فیصلہ نہ ہو جائے اور جب تک ہم پھر مل کر ایک نہ ہو جائیں۔ہمیں یہ دکھ اور درد تڑپا رہا ہے کہ ہم اور طرف جارہے ہیں اور آپ اور طرف جارہے ہیں۔اب فیصلہ اسی طرح ہوگا کہ یا آپ ہم پر ہماری غلطی ثابت کر دیں یا ہم آپ پر آپ کے عقائد کی غلطی ثابت کر دیتے ہیں۔پھر جس کی بھی غلطی ثابت ہو جائے اُس کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کی بات مان لے تاکہ یہ اختلاف دُور ہو اور ہم پھر ایک دوسرے سے مل جائیں۔میں سمجھتا ہوں اگر اس رنگ میں سب احمدی اپنے اپنے رشتہ داروں کے پاس بیٹھ جائیں اور کہیں کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یا ہم مر جائیں گے یا آپ سے ہدایت منوا کر رہیں گے تو وہی لوگ جو تمسخر کیا کرتے ہیں، جو ہنسی اور مذاق سے کام لیا کرتے ہیں، جو گالیوں اور بد زبانیوں پر اتر آتے ہیں سنجیدگی سے باتیں کرنے لگ جائیں کے می