خطبات محمود (جلد 25) — Page 40
$1944 40 محمود ا فائدہ نہیں اٹھاتے۔لیکن مومن وہ ہوتا ہے جو اپنی سابقہ کو تاہی پر جہاں افسوس کا اظہار کرتا ہے وہاں موجودہ نعمت کو وہ اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کی جو تشریح ہمیں معلوم ہوئی ہے، جو علوم خدا نے ہم پر کھولے ہیں، جو معارف اُس نے ہمیں سکھائے ہیں اور جو باتیں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں بیٹھ کر سیکھی ہیں آج دنیا ان کا کہاں مقابلہ کر سکتی ہے۔لیکن اگر ہم میں سے ایک حصہ نے وہ زمانہ نہیں دیکھا تو اُسے اب وہ معارف اور علوم ہم سے سیکھ کر دوسرے درجہ کی نعمت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ یہ دوسرے درجہ کی نعمت بھی اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔میں نے بتایا ہے کہ یہ زمانہ ایسا ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ابھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ خلافت کا نظام ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم ہے اور جبکہ خلافت کے نظام پر وہ لوگ فائز ہوئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں۔پس اس وقت سے فائدہ اٹھانے کا جن لوگوں کو موقع نصیب ہے اگر وہ اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور جو خدا تعالی کی مشیئت کے ماتحت انہیں نصیب نہیں ہوا اس پر افسوس کرتے ہوئے اپنی عمریں گزار دیتے ہیں تو ممکن ہے بلکہ غالب ہے کہ وہ پہلے زمانہ کی طرح اس دوسرے زمانہ کی برکات کو بھی کھو دیں گے۔پس ہمارے دوستوں کو اس امر کی اہمیت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے اور انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی ان کی زندگیوں میں فائدہ اٹھانے کے اہم مواقع موجود ہیں۔اگر پہلا زمانہ انہوں نے اپنی من غفلت سے کھو دیا ہے یا خدا تعالیٰ نے وہ زمانہ انہیں نصیب نہیں کیا تو اب دوسر از مانہ کھو دینے کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔مجھے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانے کا اس وجہ سے خیال پیدا ہوا کہ میں ایک مجبوری کی وجہ سے قریباً ایک مہینہ سے لاہور میں موجود ہوں۔مگر میں نے دیکھا ہے لاہور کے بہت ہی کم دوستوں نے میری موجودگی سے فائدہ اٹھایا ہے۔میں باہر آخر ایک ہی وقت میں بیٹھ سکتا ہوں۔گو اس کے علاوہ نمازیں پڑھانے کے لیے بھی میں آتا جاتا ہوں مگر لاہور کے بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس موقع پر آتے رہے ہیں۔شاید وہ اپنے ہی