خطبات محمود (جلد 25) — Page 41
خطبات محمود 41 $1944 دلوں میں بہت دفعہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ انہیں نہ ملا۔اگر ملتا تو ہم یوں کرتے اور اس اس طرح فائدہ اٹھاتے۔مگر ان کی ان خواہشات کا باطل اور غلط ہو تا اسی سے ثابت ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت حاصل کرنے کا جو می دوسرا موقع ملا اس سے انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اگر واقع میں ان کے دلوں میں دین کی اہمیت اور اس کی عظمت کا احساس ہوتا تو جو چیز ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی اس پر افسوس ہے کرنے کی بجائے جو چیز موجود تھی اس سے فائدہ اٹھاتے۔* میں نے دیکھا ہے کہ کئی دوست اس خیال میں رہے ہیں اور بعض سے میں نے پوچھا تو میں انہوں نے جو اب بھی یہی دیا کہ جگہ تھوڑی ہے وہاں زیادہ لوگ نہیں آسکتے۔لیکن میرے نزد یک گو وہ چھوٹی جگہ ہے پھر بھی اگر دوست آنا چاہتے تو باری باری آکر سب فائدہ اٹھا سکتے تھے۔آخر تھوڑی جگہ میں یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جماعت کے سب دوست اکٹھے ہو سکیں۔ایسی صورت میں فائدہ اٹھانے کا طریق یہی ہوتا ہے کہ باری باری لوگ فائدہ اٹھا لیں۔پس بے شک وہ جگہ چھوٹی ہے اور سب دوست وہاں نہیں آسکتے لیکن اگر ان کے دلوں میں فائدہ حاصل کرنے کی خواہش اور تڑپ ہوتی تو بعض لوگ ایک دن فائدہ اٹھا لیتے، بعض دوسرے دن فائدہ من اٹھالیتے اور بعض تیسرے دن فائدہ اٹھا لیتے۔اس طرح جگہ کی تنگی کا سوال بھی حل ہو جاتا اور فائدہ بھی سب جماعت کو پہنچ جاتا۔یاد رکھو! خدا تعالیٰ کے انبیاء اور ان کے خلفاء جب کسی جگہ جاتے ہیں تو وہاں کے رہنے والوں کے لیے ایک رنگ میں ابتلاء کا بھی موجب ہوتے ہیں۔یہاں کی جماعت کے دوست خیال کرتے ہوں گے کہ ہمیں مرکز میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔اگر ہم مرکز میں رہتے تو یوں دین کی خدمت کرتے اور یوں علمی اور روحانی باتوں کے پھیلانے میں حصہ لیتے۔مگر کسی اس خطبہ کے بعد جماعت لاہور نے خاص طور پر نماز کی جماعت کے وقت میں آنا شروع کر دیا اور جہاں تک ہوسکا میری موجودگی سے فائدہ اٹھایا۔فَجَزَاهُمُ اللهُ احْسن الْجَزَاء - من