خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 158

$1944 158 خطبات محمود حضرت عیسی علیہ السلام جسمانی مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے وہ بھی پانچ سات مردوں کو زندہ کرنے کے ہی قائل ہیں اور وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لاکھوں لوگ ان کے زمانہ میں مرے مگر انہوں نے صرف چند مردوں کو ہی زندہ کیا۔اور اگر سخت بیماروں کی شفائے لوتب بھی ان کے زمانہ میں لاکھوں لوگ بیمار ہوئے اور لاکھوں لوگ ہی بیماریوں سے فوت ہوئے ہوں گے مگر ان کی دعاؤں سے اچھے ہونے والے صرف چند لوگ ہی ہوں گے۔اور اگر مر دوں کو زندہ کرنے سے مراد روحانی مردوں کا احیاء لیا جائے تب بھی ان کی لاکھوں لاکھ کی قوم جو فلسطین میں آباد تھی اس میں سے چند سو ہی حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لائے باقی لوگ روحانی لحاظ سے مُردے ہی رہے۔غرض کوئی معنے لے لو یہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا نے کچھ معاملات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سنی اور کچھ معاملات میں ان سے اپنی بات منوائی۔یہی حال ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ دعا فرمائی کہ الہی ! تو عمر بن الخطاب یا ابو جہل میں سے کسی ایک کو ہدایت دے کر اسلام کو تقویت عطا فرما۔4 اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو ہدایت دے دی مگر ابو طالب جن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے احسانات تھے، جنہوں نے بڑے بڑے مشکل اوقات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و کی مدد فرمائی اور جن کی ہدایت کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائیں بھی کیا ک تھے انہوں نے مرتے وقت بھی یہی کہا کہ اے میرے بھتیجے ! میر ادل تو مانتا ہے کہ جو کچھ تو کہتا ہے سچ ہے مگر میں اپنی قوم کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتا اور اسی پر جان دیتا ہوں گے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمتیں ہوتی ہیں۔بندے کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر دم تک دعائیں کرتا چلا جائے اور خدا تعالی پر توکل رکھے۔لیکن جب خدا کی مشیت ظاہر ہو جائے چاہے خوشی ہے کے رنگ میں، چاہے رنج کے رنگ میں تو اس کا دل تسلی پا جائے اور وہ خد اتعالیٰ پر کسی قسم کے شکوے کا اظہار نہ کرے۔اگر خوشی ہو تب بھی اور اگر رنج ہو تب بھی۔بندہ کے لیے یہی اصلی اور حقیقی مقام ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے رب کی رضا پر راضی رہے اور یہ نہ کہے کہ جس طرح غلام آقا کی بات مانتا ہے اسی طرح خدا اس کی ہر بات مانتا چلا جائے۔آقا آقا ہی ہے