خطبات محمود (جلد 25) — Page 159
خطبات محمود 159 $1944 وہ جس قدر مانتا ہے اس کا احسان ہوتا ہے اور جو بات وہ نہیں مانتا اس میں بندے کو گلے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے میری یہ بات کیوں نہ مانی۔اس کا ہماری کسی بات کو مان لینا احسان ہے اور کوئی شخص اپنے محسن سے یہ نہیں کہا کرتا کہ جب تو نے مجھ پر دس ہے احسانات کیے تو گیارھواں کیوں نہ کیا؟ پس مومن کو ہمیشہ یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں تک دعا کا تعلق ہے، مومن کو کبھی ہے تھکنا نہیں چاہیے اور ایک منٹ کے لیے بھی اس کے دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا نہیں سنے گا۔چاہے کوئی مقدمہ ہو، بیماری ہو، مالی نقصان ہونے والا ہو یا جانی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو یا سیاسی یا اقتصادی نقصان کا احتمال ہو۔غرض کتنا ہی بھیانک نقصان میں اسے پہنچنے والا ہو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب پر توکل رکھے۔اس سے دعائیں مانگتا چلا ہے جائے اور یہ خیال تک بھی اپنے دل میں نہ لائے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔بلکہ یہی کہے کہ سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے اور وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔لیکن جب خدا کا فیصلہ صادر ہو جائے تو خواہ اُس کا فیصلہ بعض دفعہ اُس کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اُس کا فرض ہے کہ جس طرح پہلے اس نے مومنانہ رنگ دکھایا اسی طرح اب دوسرا مومنانہ رنگ یہ دکھائے کہ وہ پوری طرح خدا تعالیٰ کے فعل پر راضی ہو جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی فطرت ایسے مصائب اور مشکلات کے وقت دکھ محسوس کرتی ہے مگر وہ دکھ اور رنج آور چیز ہے اور خدا کی بات پر ناشکری کر نا اور چیز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک نواسے تھے۔وہ بیمار ہوئے اور حالت زیادہ خراب ہو گئی۔جب آپ کی لڑکی نے سمجھا کہ اب آخری وقت قریب ہے تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا بھیجا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ بڑے رحیم و کریم اور شفیق تھے آپ نے خیال فرمایا کہ اگر میں جاؤں گا تو تکلیف ہوگی اس نے لیے آپ نے جانے سے گریز فرمایا۔اس پر پھر آپ کی لڑکی نے بڑے اصرار سے کہلا بھیجا کہ ایک دفعہ ضرور تشریف لائیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے۔بچہ پر اس وقت نزع کی حالت طاری تھی۔اسے دیکھ کر آپ کے آنسو جاری ہو گئے۔میں