خطبات محمود (جلد 25) — Page 157
خطبات محمود 157 $1944 فرمائے گا۔مگر پھر اسے سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دو دوستوں کا آپس میں سلوک ہوتا ہے کہ کبھی وہ اس کی بات مان لیتا ہے اور کبھی یہ اس کی بات مان لیتا ہے اسی طرح اللہ کا اپنے بندے کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔کبھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے تمہاری خاطر اپنا ایک لمبا سلسلہ حالات بدل دیا، تمہاری دعا میں نے سن لی اور تمہاری اس دعا کو قبول فرما کر ایک ایسی چیز کو جو بظاہر ہوتی ہوئی نظر آتی تھی میں نے ٹلا دیا اور اپنی تقریر کو بدل دیا یا ایک ایسی چیز جو بظاہر ہے نہ ہوتی ہوئی نظر آتی تھی اسے تمہاری خاطر میں نے ہونے والی بنا دیا۔لیکن بھی خدا اپنے لیے بندوں سے کہتا ہے کہ تم جو کچھ طلب کرتے ہو اُسے میری خاطر چھوڑ دو اس وقت میں اپنی مرضی چلانا چاہتا ہوں۔یہی رنگ مومن اور خدا میں ہمیشہ چلتا چلا جاتا ہے۔بسا اوقات ایک ہی شخص ہوتا ہے مگر ایک طرف تو اس کے متعلق ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ خدا کے حکم کے ماتحت مُردوں کو زندہ کرتا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسی کے ہاتھوں سے زندے نکل کر مر جاتے ہیں۔یہ دونوں چیزیں ہمیں سارے انبیاء کے حالات میں نظر آتی ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ وہ مردے زندہ کیا کرتے تھے۔2 انجیل میں بھی لکھا ہے کہ کئی مردے حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھ سے زندہ ہوئے۔3 اب مُردے زندہ کرنے کے کوئی معنے لے لو۔چاہے وہ لے لو جو عیسائی مانتے ہیں یا بعض مسلمان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حقیقی طور پر وہ جسمانی مردوں کو زندہ کیا کرتے ہو تھے۔چاہے وہ معنے لے لو جو ہماری جماعت کرتی ہے کہ ایسے بیمار جو بظاہر مر جانے والے ہوتے تھے جب حضرت مسیح ان کے لیے دعا کرتے تو ان کی دعا اور توجہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندگی دے دیتا۔چاہے یہ معنے لے لو کہ مردہ دل لوگوں کو وہ تبلیغ کرتے اور اپنی روحانیت کا ایسا اثر ان پر ڈالتے کہ وہ لوگ جو مُردہ دل ہوتے، جو روحانیت سے نا آشنا ہوتے اللہ تعالیٰ ان میں تقوی اور ایمان پیدا کر دیتا۔ان میں سے کوئی معنے لے لو بہر حال ہر جگہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ایسا نہیں کر سکتے تھے۔اگر جسمانی مر دوں کو زندہ کرنا مراد لے لو تب بھی ان کے زمانہ میں لاکھوں لوگ مرے ہوں گے۔مگر انہوں نے جن لوگوں کو زندہ ہو گا وہ پانچ سات ہی ہوں گے۔خود وہ لوگ جو اس بات کے مدعی ہیں کہ