خطبات محمود (جلد 25) — Page 140
خطبات محمود 140 $1944 ایک کاغذ پر اپنے دستخط ہی کر دیں یا خط لکھتے ہیں تو بڑی منت اور عاجزی سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے اس خط کا جو جواب ہو اُس پر آپ اپنے دستخط ضرور کریں۔کیونکہ ہم اس کو محبت کی یاد گار کے طور پر اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔اب کسی کے خط پر دستخط کرنے سے اُس کو ہماری محبت سے کتنا قلیل حصہ ملتا ہے مگر وہ اُسی کو غنیمت سمجھتا ہے اور اس کے متعلق ناشکری کے کلمات اپنی زبان پر نہیں لاتا۔اسی طرح ہر شخص کو آخر اس کی قربانی کے مقابلہ میں ہی درجہ ملے گا۔دنیا میں کون ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود السلام جیسی محبت کی ہو۔امتِ محمدیہ میں کروڑوں کروڑ لوگ ہوئے ہیں مگر سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جس نے آپ سے ایسی محبت کی ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نقش اس کے دل پر پیدا ہو گیا ہو۔پس جب سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اب تک امت محمدیہ میں اور کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے عشق میں انتہائی مقام تک پہنچ گیا ہو تو یہ لازمی ہے بات ہے کہ اب دوسرا شخص آپ کے توسط سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکتا ہے۔اپنے طور پر اگر وہ اس محبت کو حاصل کرنا چا ہے تو بے شک زور لگا کر دیکھ لے اور اگر اس میں اتنا زور ہے صرف کرنے کی ہمت نہیں تو اس کے لیے نجات کا اب یہی ایک راہ ہے کہ خدا نے اس کے لیے آگے بڑھنے کا جو ذریعہ بنایا ہے اُس کو اختیار کرے اور اسی کے توسط سے مقامات قرب کے طے کرے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کا نزول ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کیا کرتا ہے۔میں یہاں کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس جگہ مصلح موعود کی پیشگوئی کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر انکشاف کا ہونا لا ہور کی جماعت کی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیتا ہے۔یہیں سے پیغامی فتنہ نے سر اٹھایا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔یہیں سے احراری فتنہ اٹھا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔اور بھی جس قدر فتنے اٹھے ان میں زیادہ تر لاہور کا ہی حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی زیادہ تر چیلنج لا ہور سے ہی ملا کرتے تھے اور یا پھر امر تسر سے۔امر تسر سے کم اور لاہور سے زیادہ۔پھر اس وقت پنجاب کا سیاسی مرکز بھی لاہور ہے