خطبات محمود (جلد 25) — Page 139
$1944 139 محمود تو اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے مقدم ہے۔ہر شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ایسا دیوانہ ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کو بھول جاتا ہے وہ مومن نہیں کافر ہے۔ہر شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں ایسا دیوانہ ہو جاتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو بھول جاتا ہے وہ مومن نہیں کا فر ہے۔ہر شخص جو کسی درجہ پر قائم ہے جو شخص اُسے چھوڑتا ہے سوائے اس کے کہ وہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھے جو اجتہاد سے تعلق رکھتی ہو وہ نادان ہے۔بلکہ بعض حالتوں میں وہ ایمان سے باہر اور کافر ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے جو محبت ہے وہ ایسی نہیں کہ ہم لفظوں اور عبارتوں کے پیچھے مرتے ہیں۔دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی ساری عمر اس حسرت و افسوس میں ہی گزر جاتی ہے کہ کاش! ہمارا محبوب ہم پر محبت کی ایک نگاہ ہی ڈالتا۔پھر کیسا نادان ہے وہ انسان جو کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک ملاقات سے کیا بتا ہے۔جس شخص کے دل میں ایسی ناشکری پائی جاتی ہے اور جو سمجھتا ہے کہ مجھ کو جب تک ساری دنیا کی نعمتیں نہ ملیں میں اُس کی طرف توجہ نہیں کر سکتا۔اُسے ساری دنیا سے بڑھ کر کام بھی تو کرنا چاہیے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے غیر احمدی کہا کرتے ہیں ہم نے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا تو پھر مسیح موعود کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ کہنا کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا ہے یہ بھی تو ایک خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اگر انہوں بچے دل سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبول کیا ہو تا تو وہ یہ بھی تو دیکھتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے ساتھ مسیح موعود کی صورت میں آیا۔مگر جب انہوں نے مسیح موعود کو نہ مانا تو معلوم ہو گیا کہ ان کا یہ کہنا بالکل غلط تھا کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا ہے یا انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کے جمال کو دیکھا ہے۔بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم آقا تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے غلام۔لیکن سچی محبت رکھنے والا تو اپنے آقا اور محبوب کی قلیل سے قلیل چیز ملنے پر بھی اپنے جذبات میں تلاطم محسوس کرتا ہے اور وہ بجائے اس کو رد کرنے کے محبت کے ہاتھوں سے اُس کو لیتا اور اپنے سینہ کے ساتھ اس کو لگاتا ہے۔ہم جانتے ہیں ہمارے ساتھ ہی جو لوگ محبت رکھتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ بسا اوقات وہ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ہے