خطبات محمود (جلد 25) — Page 761
1944ء 761 خطبات محمود مکانات نہیں بڑھے اور جبکہ مہمان جنگ سے پہلے زمانہ کی نسبت زیادہ آتے ہیں مکانوں کی تنگی کی وجہ سے اپنے دلوں کو زیادہ پھیلائیں۔ اور اگر وہ اپنے دلوں کو زیادہ پھیلا لیں تو مکانوں کی تنگی محسوس نہ ہوگی۔ لیکن اگر وہ اپنے دلوں کو نہ پھیلائیں گے تو مکانوں کی تنگی اُن کو بھی محسوس ہوگی اور آنے والے مہمانوں کو بھی۔ اور منتظمین کو بھی تنگی محسوس ہوگی۔ اور اگر مکانوں کی تنگی کی وجہ سے تکلیف ہونے کے باعث جلسہ کے موقع پر مہمانوں کے آنے میں کمی ہو گئی تو یہ گناہِ عظیم قادیان کے باشندوں کے سر ہو گا۔ دوسری نصیحت جو میں جلسہ کے سلسلہ میں کرنا چاہتا ہوں اور جو گزشتہ سال بھی کی تھی یہ ہے کہ یہ سخت گرانی کا زمانہ ہے۔ ایک روپیہ کی چیز کی قیمت اس وقت پانچ روپیہ ہے۔ پہلے جلسہ سالانہ کا خرچ ہیں اکیس ہزار روپیہ ہوتا تھا۔ مگر اب جلسہ سالانہ کا بجٹ چھپن ہزار روپیہ ہے۔ یہ چھپن ہزار روپیہ کی رقم اگر جماعتیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تو چندہ سے وصول ہو سکتی ہے۔ ہمارے چندہ عام کی رقم چھ لاکھ روپیہ کے برابر ہوتی ہے اور اگر چندہ جماعت کی آمد کا سولہواں حصہ بھی سمجھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آمد چھیانوے لاکھ روپیہ ہے۔ مگر اِس چندہ میں چونکہ وصیت وغیرہ کی رقم بھی ہوتی ہے اُسے اگر الگ کر دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جماعت کی آمد استی لاکھ روپیہ ہے۔ گو یہ اندازہ ہے بالکل غلط ۔ میرے خیال میں ہماری جماعت کی گل آمد دو کروڑ روپیہ کے قریب ہے۔ لیکن اگر اسی لاکھ ہی سمجھ لی جائے تو اس کا مطلب ساڑھے چھ لاکھ روپیہ کے قریب ماہوار ہے۔ اور اگر اس کا دسواں حصہ چندہ جلسہ سالانہ میں وصول کیا جائے تو یہ چندہ ساٹھ ہزار روپیہ سے زائد ہو سکتا ہے۔ پس جلسہ سالانہ کے اخراجات کا جو بجٹ ہے اُتنی رقم کا وصول کرنا میرے نزدیک مشکل نہیں۔ مگر چونکہ چندہ جلسہ سالانہ میں عام طور پر سستی کی جاتی ہے، قادیان کے دوست بھی اپنی پوری ذمہ داری محسوس نہیں کرتے اور زمیندار دوست بھی پوری ذمہ داری محسوس نہیں کرتے اور شہری جماعتیں بھی پوری ذمہ داری محسوس نہیں کرتیں اس لیے وصول بہت کم ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر جماعت کے دوست ماہور آمد کا دس فیصدی بھی دیں تو بھی ساٹھ ستر ہزار روپیہ وصول ہو سکتا ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ اِس وقت تک صرف