خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 762 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 762

$1944 762 خطبات محمود اٹھارہ ہزار روپیہ چندہ کے وعدے آئے ہیں اور گزشتہ سال غالبا گل وعدے ستائیس ہزار کے آئے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس سال بھی ستائیس ہزار ہی آمد سمجھ لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سلسلہ کے دوسرے کاموں کا تیس ہزار روپیہ جلسہ سالانہ پر خرچ کرنا پڑے گا اور تیس ہزار روپیہ کی رقم ایک غریب جماعت کے لیے معمولی نہیں۔پس جہاں اس بوجھ کو کم کرنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ جماعتیں اپنی ذمہ داری کو پوری طرح سمجھیں اور جلسہ سالانہ ہے کا چندہ پوری شرح کے ساتھ ادا کریں، اور جہاں ایک اور ذریعہ اس بوجھ کو کم کرنے کا یہ ہے کہ بیت المال بھی اِس چندہ کی وصولی کی خاص طور پر کوشش کرے اور زور سے اس کی تحریک کرے اسے عام تحریک سمجھ کر نہ چھوڑ دے وہاں ایک اور ضروری ذریعہ اس بوجھ کو کم کرنے کا یہ بھی ہے کہ قادیان کی جماعت کے افراد اور کارکن اخراجات کی تخفیف کی انتہائی کوشش کریں۔ورنہ یہ بار بڑھتے بڑھتے دوسرے کاموں کو سخت نقصان پہنچائے گا۔اور اگر ہر سال یہ تیس ہزار کا بوجھ پڑتا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دس سال کے عرصہ میں یہی رقم ہے تین لاکھ ہو جائے گی۔اور اگر جائیداد رہن رکھ کر یہ تین لاکھ روپیہ حاصل کیا جائے تو گویا قریبا پندرہ ہزار روپیہ کا خرچ اور بڑھ جائے گا اور اس طرح یہ سالانہ بوجھ پینتالیس ہزار روپیہ کا ہو گا۔بعض سوراخ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اگر اُن کو بند نہ کیا جائے تو پل ٹوٹ جاتے ہیں، عمارتیں گر جاتی ہیں، علاقے ویران ہو جاتے ہیں اور شہر برباد ہو جاتے ہیں۔پس مومن کو اپنے کاموں میں ہوشیار ہونا چاہیے اور بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔جب آدمی اپنے گھر کے کاموں میں احتیاط سے کام لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر خرچ بڑھتا گیا تو میری جائیداد تباہ ہو جائے گی اور میرے لیے مشکلات پیدا ہوں گی تو خدا تعالیٰ کے کاموں میں تو مومن کو بہت ہی زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔پس میں قادیان کی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے عزم اور ارادہ کے ساتھ یہ فیصلہ کر لیں کہ خرچ زیادہ نہ ہونے دیں گے۔جہاں تک ایسے گھروں کا سوال ہے جن میں مہمان اِس کثرت کے ساتھ اترتے ہیں کہ ان کے لیے گھر میں اپنے لیے کھانا پکانا ناممکن ہو جاتا ہے اُن کے گھروں میں بے شک میں تین چار دنوں میں کھانا لنگر سے آنا چاہیے۔گو جو صاحب توفیق ہیں ان کے لیے میں یہ