خطبات محمود (جلد 25) — Page 760
خطبات " محمود 760 $1944 الگ کمرہ رکھا ہو گا اور اُسی میں رشتہ داروں کو باری باری ٹھہرائیں گے۔یہ نہیں کہ جو کوئی چاہے آجائے اور جتنا عرصہ چاہے ٹھہرا رہے۔یہ تمدن کہ ہر ایک کے لیے الگ کمرہ، الگ غسل خانہ اور الگ پاخانہ ہونا چاہیے اور یہ تمدن کہ مہمانوں کو آرام پہنچانے کے لیے گھر کی عورتیں ایک کمرہ میں ہو جائیں اور مہمان عورتوں کو ساتھ لے لیں اور مرد الگ ہو کر مہمان مردوں کے ساتھ گزارہ کر لیں ان دونوں تمدنوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں معلوم ہوتا۔اور اگر ہمارے اس تمدن میں تغیر پیدا ہو جائے تو ہمارے لیے بہت مشکل پیش آئے گی۔پس میں وقت پر قادیان کی جماعت کو ہوشیار کرتا ہوں۔اب تک وہ جس قسم کی ہے قربانی کرتی آئی ہے آئندہ اس میں زیادتی ہونی چاہیے کمی نہ ہونی چاہیے۔جو تمدن اس میں حائل ہیں ہوتا ہے، جو تمدن قربانیوں میں روک بنتا ہے وہ شیطانی ہے آسمانی نہیں اور وہ ناجائز ہے جائز نہیں۔جو چیز نیکی سے محروم کرتی اور جماعت کی ترقی کے رستہ میں روک بنتی ہے وہ شیطانی ہے خدائی نہیں ہو سکتی۔اس میں شبہ نہیں کہ اگر قادیان کے دوست انتہائی قربانی سے کام نہ لیں تو ہمارا جلسہ سالانہ جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر سال ترقی کرتا جاتا ہے اُس کا انتظام کرنانا ممکن ہو جائے گا۔جوں جوں جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتی جاتی ہے ہمارا سالانہ اجتماع بھی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔وہ بیبیوں سے سینکڑوں تک پہنچا اور سینکڑوں سے ہزاروں تک اور اب وہ در جنوں ہزاروں تک پہنچ چکا ہے۔اور کوئی زمانہ آئے گا جب وہ لاکھوں اور شاید کروڑوں تک پہنچ جائے گا۔اور ظاہر ہے کہ اتنے لوگوں کے لیے نئے مکانات تیار نہیں کرائے جاسکتے۔اگر جلسہ کے مہمانوں کے لیے الگ مکانات بنوائے جائیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ بعض نئے محلے صرف جلسہ کے لیے تعمیر ہوں جو سال میں تین چار روز آباد اور پھر سارا سال ویران پڑے رہیں۔ممکن نہیں کہ جلسہ کے لیے الگ محلے بنوائے جائیں۔پس ہماری حالت دو صورتوں سے خالی نہیں۔یا تو یہ کہ جلسہ میں آنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے یہ کوشش کریں کہ لوگ کم سے کم آئیں اور یا پھر قربانی کے معیار کو بلند کرتے جائیں اور جتنے بھی مہمان آئیں دوست اُن کی رہائش کے لیے اپنے گھروں میں انتظام کرنے کے لیے تیار ہوں۔پس میں دوستوں کو خصوصیت سے نصیحت کرتا ہوں کہ اس موقع پر جبکہ آبادی بڑھ چکی ہے اور ہم اور یہ