خطبات محمود (جلد 25) — Page 707
1944ء 707 خطبات محمود قادیان پہنچیں اور وہاں ہماری باتیں سنیں۔ حالانکہ غیر احمدیوں کو اپنے علماء کی باتیں سننے کے لیے قادیان آنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ یہ باتیں تو ہر جگہ سن سکتے ہیں۔ کسی غیر احمدی عالم - کے یہاں آنے کی غرض تو یہی ہو سکتی ہے کہ احمدیوں کو وہ باتیں سنائی جائیں۔ پس میں اب بھی وہ بات کہتا ہوں جو دہلی میں کہی تھی کہ اگر کوئی غیر احمدیوں کا بڑا عالم یہاں آکر اپنی باتیں احمد یوں کو سنانا چاہے تو اُس کا انتظام کر دوں گا اور اُس کا خرچ بھی دوں گا اور گورنمنٹ سے بھی یہ کہہ دوں گا کہ اُس کے یہاں آنے اور تقریر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور وہ احمدیوں کے سامنے تقریر کرے تا اُسے تسلی ہو سکے کہ جن لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے ناواقفیت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اچھی طرح موازنہ کر کے کیا ہے۔ اور اگر اُس کا یہ خیال درست ہو گا کہ جو لوگ احمدی ہوئے ہیں وہ دھوکا کا شکار ہوئے ہیں تو اُس کی تقریر سننے والے احمدی خود بخود اُس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو اس تقریر کو سن کر ان کے ایمان اور زیادہ مضبوط ہوں گے ۔ غرض ان دونوں باتوں میں یعنی جو کچھ میں نے دہلی میں کہا اور جو کچھ احرار نے میری طرف منسوب کیا زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں نے تو کہا تھا کہ یاز و نے ان کے علماء قادیان میں آکر احمدیوں کو اپنی باتیں سنانا چاہیں تو میں اس کا انتظام کر دوں گا۔ مگر اُنہوں نے سارے ہندوستان میں یہ ڈھنڈورا پیٹ دیا کہ غیر احمدی جمع ہو کر قادیان چلیں۔ میں نے تو کہا تھا کہ اُن کی تقریر کے لیے انتظام میں کر دوں گا۔ مگر اُنہوں نے خود ہی لوگوں کو جمع کر کے قادیان میں لانے کی کوشش شروع کر دی۔ قادیان ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ اس کی آبادی تیرہ چودہ ہزار سے زیادہ نہیں اور اس میں احمدیوں کی آبادی قریباً دس ہزار ہو گی۔ تو ایک ایسی چھوٹی سی بستی میں چاروں طرف سے مخالفین کو اکٹھا کر کے لانا ایک ایسی بات ہے کہ کون امید کر سکتا ہے کہ یہ فتنہ کا موجب نہ ہو گی۔ پھر ان لوگوں کی طرف سے اشتعال بھی دلایا جا رہا تھا۔ جس کے نتیجہ میں بعض لوگ اس بات پر آمادہ ہو جاتے کہ ہمارے مقدس مقامات پر حملہ کر دیں۔ جیسا کہ پہلے ان کی طرف سے اس ارادہ کا اظہار بھی ہو چکا ہے۔ پس ان لوگوں نے جو کچھ کرنا چاہا وہ میری تجویز ہرگز نہ تھی۔ میں نے جو بات پیش کی تھی اُس کے مطابق اگر یہ لوگ چاہیں تو اب بھی انتظام