خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 708

$1944 708 خطبات محمود ہو ہو سکتا ہے۔وہ ایسی بات ہے کہ جس پر گورنمنٹ کو بھی اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں سکتی۔اگر قادیان میں احمدی جمع ہوں اور اُس مجمع میں کوئی غیر احمدی مولوی تقریر کرے تو گورنمنٹ کو فساد کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا اور ایسے اجتماع کے انعقاد کے لیے میں بھی ان کے ہم ساتھ مل کر گورنمنٹ سے اجازت لینے کی کوشش کروں گا۔کیونکہ اس میں فتنہ کا کوئی خدشہ ہے نہیں۔مگر ان لوگوں نے ایک نرالا ڈھونگ رچایا اور لوگوں کو اکٹھا کر کے قادیان پر یورش کرنا ہے چاہی اور جب گورنمنٹ نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہ دی تو شور مچادیا کہ احمدیوں نے ہمارا جلسہ بند کرادیا۔یہ صحیح ہے کہ سلسلہ کے ایک افسر نے اس بارہ میں ذمہ دار سرکاری افسر سے ملاقات کی تھی مگر جب وہ ملا تو اس سرکاری افسر نے کہا کہ میں تو دوروز ہوئے اِس جلسہ کے بند کیے جانے کا حکم دے چکا ہوں۔پس یہ بات غلط ہے کہ ان کے جلسہ میں روک جو پیدا ہوئی وہ ہے ہماری وجہ سے ہوئی اور اِس طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ ہمارے بعض جلسوں پر انہوں نے جو حملے کیے، پتھر پھینکے اور احمدیوں کو زخمی کیا اُس کی وجہ قادیان میں ان کے جلسہ کا بند کیا جانا ہے۔کیونکہ دہلی میں تو ہمارا جلسہ قادیان میں اُن کے جلسہ کے اعلان سے بھی بہت پہلے منعقد ہوا تھا اور وہاں ہمارے جلسے پر ان لوگوں نے پتھر پھینکے اور حملے کیے تھے۔پس اُن کا یہ کہنا کہ لاہور اور امر تسر وغیرہ مقامات پر سیرت النبی کے جلسوں کے موقع پر ان لوگوں نے جو حملے کیسے ہیں وہ قادیان میں ان کے جلسہ کو بند کرانے کا انتقام لیا ہے بالکل غلط ہے۔دہلی میں ہمارے جلسہ پر اس قدر سخت پتھراؤ کے بعد یہ کہنا کہ یہ قادیان میں ان کے جلسہ نہ ہونے دیے جانے کا انتقام ہے صریح جھوٹ ہے۔پہلے ان لوگوں نے لدھیانہ میں ہمارے جلسہ کے موقع پر گالیاں دیں، پتھر پھینکے اور سوانگ 1 نکالے۔پھر دہلی میں ہمارے جلسے پر پتھراؤ کیا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی جب آپ دہلی تشریف لے گئے تو مخالفین نے سخت شور و شر کیا۔پھر امر تسر میں جلسہ کو روکا اور پتھر پھینکے۔لاہور میں بھی اسی طرح کیا۔یہ سب کچھ نصف صدی پہلے ان کے قادیان میں کونسے جلسہ کو روکے جانے کے انتقام کے طور پر کیا گیا تھا؟ اب بھی ان کے جلسہ کو اگر روکا تو حکومت نے روکا۔اور وہ اِس لیے کہ اس سے فتنہ وفساد کی بو آتی تھی۔مگر یہ لوگ تو ہمیشہ سے ہمارے جلسوں پر پتھراؤ کرتے ہیں