خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 678 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 678

1944ء 678 خطبات محمود دور کرنا چاہیے۔ نویں اسلام کا یہ حکم ہے کہ احتکار نہ ہو ۔ احتکار کے معنے صرف جمع کر کے رکھنے اور بعد میں مہنگا فروخت کرنے کے ہیں۔ اس میں غلہ کی کوئی شرط نہیں بلکہ کسی چیز کو بھی اگر اس غرض کے لیے بند کر کے رکھ لیا جاتا ہے کہ جب وہ چیز مہنگی ہو گی تو اُس وقت ہم فروخت کریں گے تو اسلام کے نزدیک یہ احتکار ہو گا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناجائز قرار دیا ہے۔ چنانچہ حدیثوں میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ اگر کوئی شخص غلہ خرید کر اس لیے روک لیتا ہے کہ جب غلہ مہنگا ہو گا تو اس وقت میں اُسے فروخت کروں گا تو وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ 17 بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ حکم صرف غلہ کے متعلق ہے اور چیزوں کے متعلق نہیں۔ حالانکہ تفقہ کے معنے ہی یہی ہوتے ہیں کہ جو حکم کسی خاص موقع پر دیا جائے اُس کے متعلق یہ دیکھا جائے کہ اُس حکم کی غرض کیا تھی۔ اور پھر جہاں جہاں وہ غرض پائی جائے اُس حکم کو چسپاں کر دیا جائے۔ پس گو احتکار کا حکم غلہ کے متعلق ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف غلہ کے تاجر کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر وہ غلہ کو روک لیتا ہے اس ارادہ اور اس نیت سے کہ جب غلہ مہنگا ہو گا تب فروخت کروں گا تو وہ ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ لیکن اِس سے استدلالِ عام کیا جائے گا۔ کیونکہ اِس حکم کی اصل غرض یہ ہے کہ لوگ کسی چیز کو روک کر نہ رکھیں تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ پس جس طرح غلہ روک کر ایک شخص احتکار کرتا اور شریعت کے نزدیک مجرم قرار پاتا ہے اسی طرح اگر کوئی کپڑے کا تاجر کپڑے کو روک لے اور لوگوں میں فروخت نہ کرے تو وہ بھی ایسا ہی سمجھا جائے گا۔ یا اگر کوئی لکڑی کو روک لیتا ہے یا لوہے کو روک لیتا ہے یا کوئلے کو روک لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جب یہ چیزیں مہنگی ہوں گی تب میں ان کو فروخت کروں گا تو وہ یقیناً اسلام کے خلاف چلتا ہے۔ پس شریعت اسلامی کے رو سے کوئی ایسی تجارت اور کوئی ایسی صنعت جائز نہیں جس میں احتکار سے کام لیا گیا ہو۔ یعنی یہ مد نظر رکھا گیا ہو کہ جب چیزیں مہنگی مہنگی ہوں گی تب ان چیزوں کو ہم فروخت کریں گے اُس سے پہلے ہم فروخت نہیں کریں گے۔ احتکار کے سلسلہ میں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بعض تاجر اس پر دہ میں بھی