خطبات محمود (جلد 25) — Page 519
1944ء 519 خطبات محمود نکل جائے گا۔ بہر حال تحریک جدید کا اجراء جن اغراض کے ماتحت الہی تصرف سے ہوا تھا اُن کی وجہ سے میں سمجھتا تھا کہ تحریک جدید کا پہلا دور جب ختم ہو گا تو خدا تعالیٰ ایسے سامان بہم پہنچائے گا کہ تحریک جدید کی اغراض کو پورا کرنے میں جو روکیں اور موانع ہیں خدا تعالیٰ ان کو دور کر دے گا اور تبلیغ کو وسیع کرنے کے سامان بہم پہنچادے گا۔ اور چونکہ تبلیغ کے لیے یہ سامان بغیر جنگ کے خاتمہ کے میسر نہیں آسکتے اس لیے میں سمجھتا تھا کہ 1944ء کے آخر یا یا 1945ء کے شروع تک یہ جنگ ختم ہو جائے گی اور ہمیں تبلیغ کے لیے آسانی سے سامان میسر آسکیں گے۔ چنانچہ اب اس قسم کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ مستقبل کے متعلق یقینی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا لیکن " ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات"۔ آثار سے پتہ لگتا ہے کہ میر ا وہ خیال درست تھا۔ اب ایسے تغیرات پیدا ہو رہے ہیں کہ جنگ اس سال کے آخر یا اگلے سال کی پہلی ششماہی میں ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ آج انگلستان کے وزیر اعظم کی اخبارات میں تقریر شائع ہوئی ہے کہ عنقریب ہم جرمنی کو شکست دیں گے جس کے بعد جاپان بھی ہتھیار ڈال دے گا۔ اس کے ساتھ ہی انگلستان کے وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کے اجلاس کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا موجودہ اجلاس ختم ہوتا ہے۔ اب 20 ستمبر کو پارلیمنٹ کھلے گی۔ اگر اس عرصہ میں دشمن نے ہتھیار ڈال دیے تو 20 ستمبر سے پہلے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس بلا لیا جائے گا۔ اس اعلان سے معلوم ہو تا ہے کہ گورنمنٹ کو امید ہے کہ شاید دشمن 20 ستمبر سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دے گا۔ یہ حالات بتارہے ہیں کہ جنگ اس سال کے آخر یا 1945ء کے شروع میں ختم ہو جائے گی۔ جنگ کے ختم ہو جانے کے معاً بعد تبلیغ کے لیے تمام سہولتیں میسر نہیں آسکتیں مگر بہت سی تنگیاں ضرور جائیں گی۔ اگر پہلے گورنمنٹ پاسپورٹ دینے میں بخل سے کام لیتی تھی تو جنگ کے بعد بخل تو کرے گی مگر اتنا نہیں۔ پہلے اگر دس میں آدمیوں کو پاسپورٹ ملتا تھا تو پھر پچاس ساٹھ آدمیوں کو ملنے لگ جائے گا۔ غرض کچھ نہ کچھ سہولتیں جنگ کے خاتمہ پر ضرور میسر آجائیں گی اور جنگ کے خاتمہ کے بعد ایک سال کے اندر اندر تو اِنْشَاءَ الله حالات بالکل پلٹا کھا جائیں گے۔ فوجوں کے اپنے اپنے ملکوں میں واپس چلے جانے کے سبب بہت سے جہاز فارغ دور ہو۔