خطبات محمود (جلد 25) — Page 489
1944ء 489 خطبات محمود اور جہاں وہ لینے والوں کے درجہ کو مد نظر رکھے گا وہاں خلعت دیتے وقت وہ اپنی شان کو بھی مد نظر رکھے گا۔ بادشاہ سے اُتر کر اگر کوئی اور شخص انعام دے گا تو وہ بادشاہ سے کم دے گا مگر حفظ مراتب کو وہ بھی اپنے درجہ کے مطابق ملحوظ رکھے گا۔ غرض جب بھی کوئی کسی کو انعام دیتا ہے اس میں دینے والے کی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے اور لینے والے کی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔ پس اس حدیث کے بعض نے یہ معنے کیے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر اُس انسان کو جو خدا کے لیے گھر بناتا ہے اُس کی نیت اور حیثیت کے مطابق بدلہ دے گا مگر اپنی شان کو بھی مد نظر رکھے گا۔ اگر کوئی چھوٹی سی مسجد بناتا ہے تو خدا تعالیٰ قیامت کے دن بہت بڑا محل اس کو دے گا۔ بعض نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جو میرے نزدیک بہت عمدہ ہے کہ ظاہری لفظوں سے صرف اتنا پتہ لگتا ہے کہ جو شخص بھٹ تیتر کے انڈا رکھنے کی جگہ کے برابر مسجد بنائے خدا تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ لیکن بھٹ تیتر کی کھو دی ہوئی جگہ کے مطابق بنائی ہوئی مسجد اتنی چھوٹی ہو گی کہ اُس میں ایک آدمی بھی کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکے گا۔ پس اس مثال کے استعمال میں ضرور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی حکمت رکھی ہے۔ اور وہ حکمت وہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتناہی فرمان فرما دیتے کہ جو شخص خدا کے لیے گھر بنائے گا خدا تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا تو پھر ایسی صورت میں صرف امراء یا صاحب توفیق لوگ ہی اس میں حصہ لے سکتے تھے۔ اِس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ الفاظ بیان فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مسجد کا ایک حصہ بھی مسجد ہی ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص مسجد بنانے میں اتنا حصہ لیتا ہے جتنی کہ بھٹ تیتر کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے تو وہ گویا خدا کا گھر بنانے کے ثواب میں شریک ہے اور اس کے لیے خدا تعالیٰ جنت میں گھر بنائے گا۔ گویا اس حدیث سے یہ بتایا ہے کہ صرف اُس شخص سے یہ بتایا۔ کو جنت میں گھر نہ ملے گا جو اکیلا مسجد بنائے بلکہ ہر وہ شخص جو کسی مسجد کی تعمیر کے چندہ میں حصہ لیتا ہے اُسے بھی جنت میں گھر ملے گا خواہ اس کے چندہ سے مسجد کا ایک انچ ٹکڑا ہی کیوں نہ بنا ہو۔ میرے نزدیک بھی یہ معنے بہت لطیف ہیں۔ کیونکہ کثرت کے ساتھ مساجد چندہ سے ہی