خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 44

1944ء 44 خطبات محمود چکا تھا اللہ تعالیٰ سے نور حاصل کر کے دور کیا۔ اسی طرح اس میدان کے ایک مشہور پہلوان حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی ہوئے ہیں۔ ان کے زمانہ میں بھی بہت گند تھا، دین سے نفرت پائی جاتی تھی اور اسلامی احکام کی غلط ترجمانی کی جاتی تھی۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے براه راست تعلق پیدا کر کے اس ظلمت کو مٹانے کے لیے جو علوم حاصل کیے اُن کے مطالعہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آسمانی علوم کی جو بارش اللہ تعالیٰ نے برسائی اس کا کچھ ترقیح ایک دو صدیاں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ اگر وہ علوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان کردہ علوم اور مطالب قرآنی تک نہیں پہنچے تو کم سے کم اُن کے قریب ضرور پہنچ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ میں ایسے مفاسد بھی پیدا ہو چکے تھے جو حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کے زمانہ میں نہیں تھے اور اس وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان مفاسد کی اصلاح کے لیے جن علوم پر روشنی ڈالی وہ اُن کے وہم و خیال میں بھی نہیں آئے اور نہ آسکتے تھے۔ لیکن بہر حال خدا تعالیٰ کے تعلق اور اس کے قرب نے ان پر وہ ان پر وہ علوم ظاہر کیے جو زمانہ نبوت سے بعد کی وجہ سے مٹ چکے تھے اور دنیا اُن سے ناواقف ہو چکی تھی۔ گویا وہ زنجیر جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان اتصال پیدا کرنے کے لیے قائم تھی اور جو زنجیر ایک لمبے عرصے سے لوگوں کی بد اعمالی کی وجہ سے کٹ چکی تھی اس زنجیر کے ٹکڑے انہوں نے از سر نو جوڑ کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا اور نئے سرے سے پھر آسمان سے گمشدہ علوم کو واپس لائے۔ پس بے شک یہ راستہ کھلا ہے اور قیامت تک کھلا رہے گا۔ اگر خدا اس دروازہ کو بند کر دے تو نَعُوذُ بِاللہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ دنیا کو روحانی زندگی عطاء کرنے کا خواہشمند نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ دنیا میں سے کتنے ہیں جو اس قسم کی قربانی کرتے اور اپنی نفسانی خواہشات کو کچل کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرتے ہیں؟ کم اور بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ سال تک ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے اور دنیا کلی طور پر تاریکی میں مبتلا چلی جاتی ہے۔ پس بہتر اور آسان طریق دنیا کی ترقی کا یہی ہے کہ اس زنجیر کو نہ