خطبات محمود (جلد 25) — Page 43
خطبات محمود 43 $1944 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو حدیثیں لکھنے کا بھی شوق تھا اور انہوں نے بہت سی حدیثیں لکھ رکھی تھیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کو جلا ڈالو۔ایسا نہ ہو کہ لوگ غلطی سے ان کو قرآن سمجھ لیں۔غرض یہ تین صحابی خصوصیت سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے۔ان سے نیچے اتر کر دو تین درجن اور صحابی ہیں جن سے متعدد روایات مروی ہیں۔مگر پھر ان سے نیچے اتر کر کسی صحابی سے ایک اور کسی سے دو حدیثیں پائی جاتی ہیں اور کسی سے ایک حدیث بھی مروی نہیں۔حضرت ابو بکر جیسے آدمی سے بہت محدود روایتیں آتی ہیں۔مگر اس کمی کی وجہ اور تھی۔عورتوں میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کثرت سے روایتیں ہیں۔غرض یہ صرف چھ سات آدمی ہیں جنہوں نے احادیث کی اہمیت کو سمجھا اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ بعد میں آنے والے لوگوں تک ان باتوں کو پہنچا دینا ہمارا فرض ہے۔اگر یہ پانچ سات میں صحابہ بھی یہی سمجھتے کہ یہ مجلسیں قیامت تک چلی جائیں گی اور ہمیشہ ان باتوں کے سننے اور سنانے والے موجود رہیں گے تو ہم اس قیمتی ذخیرہ کو کہاں سے حاصل کر سکتے۔دنیا میں نہ کوئی مجلس قیامت تک رہی ہے اور نہ باتیں سنانے والے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔آخر ایک دن می مجلسیں مختم ہو جاتی ہیں، باتیں ختم ہو جاتی ہیں۔پھر لوگوں کے دلوں میں سوالات پیدا ہونے می شروع ہو جاتے ہیں، پھر لو گوں کے دلوں میں شبہات اور وساوس پید اہونے شروع ہو جاتے ہیں اور ان وساوس اور شبہات کا رڈ کرنے والا اور ان سوالات کا جواب دینے والا دینے والا کوئی نہیں ہو تا۔بے شک رستہ موجود ہوتا ہے مگر اس رستے پر چلنے کا خیال کسی کو نہیں آتا۔رستہ تو یہ ہو تا ہے کہ انسان خد اتعالیٰ سے محبت پیدا کرے۔پھر اس طرح دل کی کھڑ کی گھل جاتی ہے کہ جو مشکلات ہوں وہ آپ ہی آپ حل ہو جاتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بڑے بڑے تاریک زمانے آئے۔ایسے ایسے زمانے آئے جب علوم میٹ گئے ، روشنی جاتی رہی، ظلمت اور تاریکی پھیل گئی لیکن ایسے تاریک زمانوں میں بھی بعض لوگوں نے جب خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسے ایسے علوم پائے کہ اُن کے ذریعہ سے اپنے زمانہ کی تمام تاریکیوں کو انہوں نے دور کر دیا۔انہی بزرگوں میں سے ایک حضرت سید احمد صاحب سرہندی ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے زمانہ میں بہت سا باطل جو پھیل