خطبات محمود (جلد 25) — Page 45
خطبات محمود رض 45 $1944 ٹوٹنے دیا جائے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان قائم ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی، حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی اور اور بہت سے بزرگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے دنیا کو تاریکی سے نکالا اور اسے آسمانی نور سے منور کیا۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر یہ زنجیر قائم رہتی، اگر نیکی کا تسلسل قائم رہتا، اگر ایسا ہو تا کہ جیسے ابو بکر کے بعد عمر ہوئے، عمر کے بعد عثمان ہوئے، عثمان کے بعد علی ہوئے۔اسی طرح یہ سلسلہ چلتا اور چلتا چلا جاتا تو حضرت سید احمد صاحب سرہندی ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتی اور حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی کو وہ تکالیف اور وہ مشکلات برداشت نہ کرنی پڑتیں جو تکالیف اور مشکلات انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں برداشت کیں۔اور نہ صرف ان کو وہ مصیبتیں جھیلنی نہ پڑتیں بلکہ مسلمانوں کی روحانیت کو اُس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچتا جتنا فائدہ اس زنجیر کے ٹوٹ جانے کے بعد مسلمانوں کو پہنچا۔کیونکہ زنجیر نبوت سلامت ہوتی اور مسلمانوں کے ہاتھ خدا کے ہاتھ میں رہتے۔پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ گو ان لوگوں نے بڑی بڑی محنتیں کیں اور گم شدہ علوم کو یہ لوگ ہیں آسمان سے واپس لائے۔لیکن یہ لوگ جماعتوں کو واپس نہیں لائے۔بے شک ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تقوی اور روحانیت اور علوم آسمانی کے حاصل کرنے میں ان لوگوں نے اتنی " اور اِس قدر قربانیاں کیں کہ ان کا قدم صحابہ کے قدم سے جاملا۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی شخص ہے صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔میرے نزدیک یہ بالکل باطل خیال ہے اور دنیا میں مایوسی پیدا کرتا اور خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں سے کم کرتا ہے۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت احمد صاحب سرہندی، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی، حضرت معین الدین صاحب چشتی، حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی اور اور بہت سے بزرگ ایسے ہیں جو کئی صحابہ سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔بلکہ میرے خیال میں یقیناً کئی صحابہ سے بڑھ کر تھے۔لیکن باوجود اس کے کہ یہ اپنے ایمان اور اپنی قربانیوں کی وجہ سے صحابہ میں جا شامل ہوئے پھر بھی انہوں نے دنیا میں