خطبات محمود (جلد 25) — Page 42
$1944 42 خطبات محمود زمانہ میں خدا تعالیٰ خود لوگوں کے گھروں میں مرکز کو لے آتا ہے اور پھر اُن سے پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ تم نے کیا فائدہ اٹھایا۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے وقت میں اتنی اہم نظر نہیں آتیں لیکن کچھ زمانہ ہے گزرنے کے بعد وہی چیز میں عظیم الشان اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔آج کئی دینی مسائل خدا تعالیٰ ہماری زبانوں سے اس طرح آسانی کے ساتھ حل کرا دیتا ہے کہ لوگوں کو احساس بھی نہیں ہو تا کہ یہ دین کے اہم ترین مسائل ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ان باتوں سے کون انکار کر سکتا ہے۔لیکن ایک زمانہ آئے گا جب بڑے بڑے عالم، بڑے بڑے سمجھدار اور بڑی بڑی کتابوں کا مطالعہ رکھنے والے ان باتوں کی تلاش کریں گے اور انہیں معلوم نہیں ہو گا کہ ان مسائل کا کیا حل ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیثیں بیان فرمایا کرتے تھے اُس وقت کتنے صحابی تھے جنہوں نے اس کی اہمیت کو سمجھا۔عام لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ تو ہماری فطرت کے مطابق باتیں ہیں کون ہے جسے ان باتوں کا بھی علم نہیں ہو سکتا اور کون ہے جو ان کا انکار کر سکتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے اور چند صحابہ، جنہوں نے اس چیز کی اہمیت کو سمجھا تھا انہوں نے حدیثیں بیان کرنا اپنے ذمہ لے لیا۔مگر پھر ایک ایسا زمانہ آیا ہے جب حدیث اتنی نایاب ہو گئی کہ بعض محدثین کو ایک ایک حدیث دریافت کرنے کے لیے ہزار ہزار، دو دو ہزار میل کا سفر کرنا پڑا۔موجودہ زمانہ میں جو سہولتیں سفر کرنے میں لوگوں کو میسر ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ہزار دو ہزار میل کا سفر ایسا ہی تھا جیسے کوئی دنیا کے گرد چکر لگانے کے لیے چل پڑے۔یا یہاں سے پیدل چل کر امریکہ جائے اور پھر وہاں سے واپس آئے۔بعض محدثین بخارا سے قیروان تک ایک ایک حدیث معلوم کرنے کے لیے گئے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کتنے لوگ تھے جنہوں نے حدیثوں کی من اہمیت کو سمجھا۔صرف تین چار صحابی ایسے نظر آتے ہیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے اور دوسروں کو سنانے کا غیر معمولی اشتیاق تھا۔ان میں سے ایک حضرت ابوہریرہ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری چند سالوں میں ایمان لائے۔اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓ تھے جو کثرت سے حدیثیں سنتے اور بیان کرتے۔