خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 419

خطبات محمود 419 $1944 چادر کو پھاڑ کر نہیں رکھ دیا، کو نسا بی دنیا میں ایسا آیا جس نے اکا بر کار عب خاک میں نہیں ملا دیا، کونسا نبی دنیا میں ایسا آیا جس نے جتھا بندی کا رعب لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال دیا۔آدم سے لے کر آج تک جس قدر انبیاء دنیا میں آئے ہیں وہ ان چاروں ظلمتوں کو دور کرنے میں ہمیشہ کامیاب ہوئے اور اُن کی جماعتیں ان ظلمتوں کو پھاڑتی ہوئیں لوگوں کے دلوں تک خدا تعالیٰ کا نور پہنچانے میں کامیاب ہوئیں اور سچے مذہب کو انہوں نے پھیلا دیا۔پس جو کچھ آج تک ہزاروں سال سے ہوتا چلا آیا ہے ہم کس طرح مان لیں کہ وہ ہمارے لیے نہیں ہو سکتا۔بے شک ہمارے راستہ میں رسم و رواج کا پردہ حائل ہے مگر جس طرح پہلے انبیاء کی اُمتوں نے اس پر دے کو چاک کر دیا اُسی طرح ہم اگر کوشش کریں تو اس پر دے کو چاک کر سکتے ہیں، بے شک ہمارے رستہ میں عادتوں کا پردہ حائل ہے لیکن جس طرح پہلے انبیاء کی امتوں نے اس م پردے کو چاک کر دیا اُسی طرح ہمارے لیے بھی وہ سامان مہیا ہیں کہ جن سے اس پر دہ کو چاک کر کے ہم لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکتے ہیں، بے شک جس طرح پہلے زمانوں کے اکابر اور انبیاء کی جماعتوں کے درمیان جتھا بندی کا پردہ حائل ہوا کرتا تھا ویسا ہی ہمارے درمیان اور ہمارے مخالفوں کے درمیان حائل ہے مگر جس طرح انہوں نے جتھا ہندی کے پردے کو چاک کر دیا اور وہ صداقت کا نور لے کر لوگوں کے دلوں تک پہنچ گئے اور ان کو حلقہ بگوشِ دین بنادیا اسی طرح کوئی وجہ نہیں کہ اگر ہم کوشش کریں تو لوگوں کے دلوں تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔میں دیکھتا ہوں ابھی تک ہماری جماعت میں تبلیغ کی اہمیت کا وہ احساس پیدا نہیں ہوا جو اس زمانہ میں اصلاح نفس اور اصلاح عالم کے لیے ضروری ہے۔دو ارب دنیا میں افراد بس یہ رہے ہیں اور ان دو ارب لوگوں میں سے اس وقت تک پانچ لاکھ کے قریب احمدی ہیں۔اگر دنیا ہے کی ایک کروڑ آبادی ہوتی تو اس کے مقابلے میں احمدی پانچ فیصدی ہوتے۔لیکن چونکہ دنیا کی آبادی دو ارب کے قریب ہے اس لیے چار ہزار آدمیوں کے مقابلے میں ایک احمدی بنتا ہے۔گویا ابھی تک کوئی نسبت ہی آپس میں نہیں اور یہ ساری منزل ابھی ہم نے طے کرنی ہے۔ہمارے سپر وجو کام کیا گیا ہے وہ ساری دنیا میں اسلام اور احمدیت کو پھیلانا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں