خطبات محمود (جلد 25) — Page 418
خطبات محمود 418 $1944 آپ نے فرمایا چچا! آپ نے مجھ پر جو مہربانیاں کی ہیں وہ میری نظر سے پوشیدہ نہیں۔میں ان کا شکر گزار ہوں۔آپ میری خاطر اپنی قوم سے نہ بگاڑیں۔آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ آج سے میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دیا ہے۔باقی رہا میر ا فیصلہ سو خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لاکر کھڑا کر دیں، تب بھی میں توحید کی تعلیم اور شرک سے نفرت کے اظہار سے باز نہیں رہ سکتا۔1 یہ ایسا شاندار جواب تھا کہ ابو طالب کا دنیا دار دل بھی اِس کو برداشت نہ کر سکا اور وہ بے اختیار ہو کر بولے نہیں! اگر یہی سوال آئے گا تو تمہاری خاطر میں اپنی قوم کو چھوڑ دوں گا۔تم جس طرح چاہو کہتے رہو۔مگر یہی ابو طالب تھے کہ جب وفات کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا اے چا! اب تو کلمہ پڑھ لو تا کہ نہیں خدا کے سامنے آپ کی شفاعت کر سکوں۔تو ابو طالب نے کہا اے میرے بھتیجے ! تیرے دین کی میرے دل میں بڑی قدر ہے۔پر میں اپنی قوم کو نہیں چھوڑ سکتا۔2 مرتے وقت انہوں نے اپنی قوم کی کیا لیڈری کرنی تھی چند منٹ میں ان میں اور ان کی قوم میں اتنا بڑا فاصلہ ہو جانا تھا جسے کوئی انسانی طاقت طے نہیں کر سکتی۔مگر چند منٹ کی لیڈری بھی ابو طالب قربان نہ کر سکے۔پس یہ تیسری ظلمت بھی بڑی خطرناک ہوتی ہے۔چوتھی ظلمت ظلمت جہل ہے۔یعنی جہالت اور ناواقفیت کی ظلمت دلوں پر چھائی ہے ہوئی ہوتی ہے۔انسان دین کی باتوں پر غور ہی نہیں کرتا۔نئی سے نئی باتیں اُس کے سامنے پیش کی جاتی ہیں مگر اُسے ان پر غور کرنے کی عادت ہی نہیں ہوتی۔وہ کوشش ہی نہیں کرتا کہ ان می باتوں کو سمجھے اور ان پر عمل کرنے کے لیے اپنا قدم بڑھائے۔وہ ظلمت جہل میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہے اور دین کی باتوں کی طرف توجہ سے کام نہیں لیتا۔پس بہت سی ظلمتیں ہیں جو بنی نوع انسان پر چھائی ہوئی ہوتی ہیں۔مگر اس میں بھی ہے کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور وہ تمام ظلمتوں کو پھاڑ کر اپنی منزلِ مقصود کو پالیتے ہیں۔کو نسا نبی دنیا میں ایسا آیا جو اپنی تعلیم کو پھیلانے میں ناکام رہا، کو نسائی دنیا میں ایسا آیا می جس نے رسم و رواج کی چادر کو پھاڑ کر نہیں رکھ دیا، کو نسائی دنیا میں ایسا آیا جس نے عادات کی امینی