خطبات محمود (جلد 25) — Page 37
$1944 37 خطبات محمود انہیں یہ بات پہلے معلوم ہوتی اور وہ اس سے بھی زیادہ خدمت کر سکتے۔مگر پھر انہیں یہ موقع نصیب نہ ہوا اور وقت ان کے ہاتھ سے چلا گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کئی لوگ ایسے تھے جنہیں قادیان میں صرف دو تین دفعہ آنے کا موقع ملام اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ہمارا قادیان سے تعلق پیدا ہو گیا اور ہم نے زمانہ کے نبی کو دیکھ لیا۔مگر آج اس چیز کی اس قدر اہمیت ہے کہ ہماری جماعت می میں سے کئی لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ یاد کر کے بڑی خوشی سے یہ کہنے کے لیے تیار ہو جائیں گے کہ کاش! ہماری عمر میں سے دس یا ہیں سال کم ہو جاتے لیکن می ہمیں زندگی میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنے کا موقع ملے جاتا۔تو جنہیں زندگی میں آپ کو دیکھنے کا موقع ملا گو انہوں نے آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے لیا مگر بہر حال انہوں نے اس کی اہمیت کا اتنا اندازہ نہ کیا جتنا اندازہ انہیں کرنا چاہیے تھا۔اس بارہ میں سب سے زیادہ صحیح اندازہ لگانے والی قوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں۔ان کی زندگیوں پر غور کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر وقیمت کا اندازہ لگانے میں قریبا تکمیل کے مقام تک پہنچ چکے تھے مے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت کو انہوں نے ایسا سمجھا کہ انہوں نے آپ کے لیے کسی قسم کی قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا۔لیکن پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی جو عظیم الشان برکات تھیں، آپ کی زندگی کی جو اہمیت تھی اگر اُس پر پورا غور کیا جاتا تو صحابہ اس مقام سے بہت اونچے ہوتے جو انہیں حاصل تھا اور اس سے بہت ہے زیادہ قربانیاں کرنے والے ہوتے جتنی قربانیاں انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کیں۔اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مبارک زمانہ ہمیں ملا ہے اور ہمارے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم وقت پر اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہے ہیں جس اہمیت کا سمجھنا ہمارے لیے دینی و دنیوی برکات کا موجب ہو ہو سکتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ تو گزر گیا۔اب آپ کے خلفاء اور صحابہ کا زمانہ ہے۔