خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 38

خطبات محمود 38 $1944 مگر یاد رکھو! کچھ عرصہ کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب چین سے لے کر یورپ کے کناروں تک لوگ سفر کریں گے، اس تلاش، اِس جستجو اور اِس دُھن میں کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بات کی ہو۔مگر انہیں کوئی شخص ایسا می نہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بات نہ کی ہو صرف مصافحہ ہی کیا ہو۔مگر انہیں ایسا شخص بھی کوئی نہیں تمہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود می علیہ الصلوة والسلام سے بات نہ کی ہو، آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو، صرف اُس نے آپ کو دیکھا ہی ہے ہو۔مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نظر نہیں آئے گا۔پھر وہ تلاش کریں گے کہ کاش! انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام سے بات نہ کی ہو، آپ کے سے مصافحہ نہ کیا ہو، آپ کو دیکھا نہ ہو مگر کم سے کم وہ اُس وقت اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ہیں ملے گا۔لیکن آج ہماری جماعت کے لیے موقع ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کرے۔آج بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے وہ دروازہ کھلا ہے جس سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی قریب ترین برکات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی برکات سے دوسرے نمبر پر ہیں، بڑی آسانی کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔مگر ہے کتنے ہیں جو اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، وہ اِسی دُھن میں رہتے ہیں کہ افسوس انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ نہ ملا، افسوس وہ ان برکات سے محروم رہ گئے اور اس حسرت وافسوس میں وہ دوسری برکت جو ان کو حاصل ہوتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا ان کے امکان میں ہوتا ہے وہ بھی ان کے ہاتھ سے نکلتی چلی جاتی ہے۔رسہ کھنچتا چلا جاتا ہے، وقت گزرتا چلا جاتا ہے، فائدہ اٹھانے کا زمانہ ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے مگر وہ پہلی برکت کے نہ ملنے پر ہی افسوس کرتے رہتے ہیں اور موجودہ برکت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے۔اس کا کیا نتیجہ ہو گا؟ یہی کہ جب ان کے دل اس افسوس سے تھک جائیں گے کہ انہیں کیوں پہلی برکت سے حصہ لینے کا موقع نہ ملا اور وہ کہیں گے اگر پہلی برکت نہیں ملی تو آؤ اب منی