خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 328

1944ء 328 خطبات محمود اس کے علاوہ میں دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ تبلیغ نہایت ہی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہم آگے قدم نہیں اٹھا سکتے۔ اس وقت ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ ایک صوبہ کو بھی سہار نہیں سکتی۔ جب تک جماعت میں تیں بلکہ سو گنا نہیں بڑھ جاتی ہم کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے جس سے دنیا میں تہلکہ مچ جائے۔ اس وقت ہماری تعداد چار پانچ لاکھ ہے۔ جب تک یہ سو گنا نہ ہو جائے کوئی عظیم الشان کام مشکل ہے۔ اگر تعداد چار پانچ یا چھ کروڑ ہو تو پھر ہم ایسے کام کر سکتے ہیں جن سے دنیا میں تہلکہ مچ جائے۔ اگرچہ اتنی تعداد بھی بہت کم ہے۔ مگر جس ارادہ اور عزم کو لے کر ہم کھڑے ہوئے ہیں، جو آگ ہمارے دلوں میں لگی ہوئی ہے، جو چنگاریاں ہمارے سینوں میں چمک رہی ہیں اگر اس قسم کے چار پانچ یا چھ کروڑ افراد ہوں تو دنیا کو جلا کر راکھ کر سکتے ہیں۔ گو ہمیں یقین ہے کہ اگر اتنے نہ ہوں چند مخلصین ہی ہوں جن کے دلوں میں ویسا ہی درد ہو جو ہمارے دلوں میں ہے تو ہم اربوں ارب دنیا پر غالب آسکتے ہیں۔ مگر اتنے زبر دست ایمان کے لوگ زیادہ پیدا نہیں ہوتے۔ پس ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ تبلیغ کے لیے باہر نکلے۔ اگر جماعتیں تبلیغ میں سستی نہ کرتیں تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہر سال جماعت کی تعداد دُگنی نہ ہو جاتی۔ یہ امتحان اور آزمائش کا وقت ہے۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر باہر نکل جائے اور تبلیغ کرے۔ ہر گاؤں، بستی، شہر ، محلہ ، ہر مرد، عورت اور بچے، بوڑھے کے لیے امتحان کا وقت ہے۔ اگر وہ دین کو پھیلانے میں کو تاہی کرتا ہے تو وہ گنہگار ہے۔ اور جو شخص چند ماہ بلکہ چند ہفتوں میں ہی اپنا قائمقام پیدا نہیں کر سکتا وہ سمجھ لے کہ اسے خدا تعالیٰ کی تائید حاصل نہیں اور جو وعدہ اُس کا نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اسے پورا کرنے کے سامان اسے میسر نہیں ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی آواز کو لے کر جائیں اور لوگ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔ ضرور ہے کہ وہ موافقت کریں یا مخالفت۔ وہ یا تو پتھر برسائیں گے یا عقیدت کے پھول۔ درمیانی رستہ کوئی یا نہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ دنیا میں کوئی نبی آیا ہو یا مصلح کھڑا ہو ا ہو اور دنیا نے اُس سے اغماض ہے کیا ہو۔ یا تو اسے پتھر مارے جاتے ہیں یا عقیدت کے پھول برسائے جاتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ حقیقت کو کھول کر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا۔