خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 329

$1944 329 محمود ایک شخص نے مجھے ایک دفعہ لکھا کہ میں اتنی مدت سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں آپ میری طرف توجہ کیوں نہیں کرتے۔کم سے کم میری مخالفت ہی کریں۔یہ خط دیکھ کر میرے دل میں یہ لالچ پیدا ہوا کہ میں اس کا جواب دوں۔چنانچہ میں نے لکھوایا کہ مخالفت بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک انعام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ماموروں کو ملتا ہے۔آپ اس سے محروم ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اب عزت دو ہی طریقوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔میری بیعت میں شامل ہو کر یا میری مخالفت کر کے۔درمیانی طبقہ یعنی خاموش رہنے والے لوگ کوئی عزت نہیں پاسکتے۔اور چونکہ عام طور پر لوگوں میں ہے عزت حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے، اس لیے ان دونوں صورتوں میں سے ایک نہ ایک ضرور اختیار کرتے ہیں۔یا بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور یا مخالفت کرنے لگتے ہیں۔صداقت کو کھلے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اگر سننے والے نہ مانتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم صداقت کو پیش کرنے میں مداہنت سے کام لیتے ہو۔میں جب پچھلے دنوں دہلی گیا تو وہاں ایک بہت بڑے سرکاری عہدیدار جو مسلمانوں کے لیڈر بھی ہیں مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ لندن میں آپ کے مولوی شمس صاحب ہیں۔وہ ہیں تو بہت اچھے آدمی مگر آخر مولوی ہی ہیں نا۔وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے۔وہ گویا مجھے یہ تحریک کر رہے تھے کہ آپ بڑے آدمی ہیں آپ کو اس نقص کی اصلاح کرنی چاہیے۔ان کی بات سن کر پہلے تو میں نے ان کو امامُكُمْ مِنكُفر 2 والی حدیث سنائی اور اس کا مطلب سمجھایا۔پھر ان سے کہا کہ آخر آپ لوگ فیصلہ کیوں نہیں کرتے کہ آپ کے لیے احمدیت کو ماننا ضروری ہے یا نہیں۔پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگوں کے پاس ہے کھٹی لٹی ہے اور میرے پاس خالص دودھ جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔اگر میں آپ کی دس ہزار سیر کھٹی لئی میں اپنا ایک سیر خالص دودھ ڈال دوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں خالص دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ رہے۔آپ کو تو چاہیے تھا کہ آپ اگر کسی احمدی کو غیر احمدیوں میں ملتا ہوا دیکھتے تو گھبرائے ہوئے آتے ہیں