خطبات محمود (جلد 25) — Page 327
خطبات محمود 327 $1944 زوری ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے۔بلکہ میں کہوں گا ہر وہ احمدی جو توفیق رکھتا ہے کہ اپنے لڑکے کو تعلیم کے لیے قادیان بھیج سکے خواہ اُس کے گھر میں ہی کالج ہو اگر وہ نہیں بھیجتا اور اپنے ہی شہر میں تعلیم دلواتا ہے تو وہ بھی ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے۔پھر کالج کے چندہ ہے کی طرف بھی دوستوں کو توجہ کرنی چاہیے۔ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک میں نے کی تھی۔اس میں سے اب تک صرف پچاس ہزار روپیہ کے وعدے آئے ہیں۔اس میں سے بائیس ہزار کے وعدے صرف تین آدمیوں کے ہیں اور اس طرح گویا باقی ساری جماعت کے وعدے صرف اٹھائیس ہزار کے ہیں۔تین آدمیوں کے بائیس ہزار کے وعدے جماعت کی طرف منسوب نہ ہونے چاہیں۔میں نے کہا تھا کہ اگر کوئی پیسہ ہی دے سکتا ہے تو وہی دے دے۔بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر کوئی سو روپیہ بھی دے سکتا ہے تو اس کے لیے بھی پیسہ ہی دے دینا کافی ہے۔حالانکہ میرا مطلب تو یہ تھا کہ اگر کوئی شخص ایسا غریہ ہے کہ پیسہ ہی دے سکتا ہے تو وہ شرمندگی کے خیال سے اس کار خیر میں پیچھے نہ رہے بلکہ پیسہ ہی دے کر شامل ہو جائے۔یہ مطلب نہیں تھا کہ جو زیادہ بھی دے سکتے ہیں وہ پیسہ دے دیں۔پس ہر جماعت کو چاہیے کہ اس بارہ میں اپنا فرض پوری طرح ادا کرے۔بعض دیہات کی جماعتوں کے چندے شہری جماعتوں سے زیادہ ہیں جس کا مطا ہے کہ ان شہری جماعتوں نے پروا نہیں کی۔بلکہ سب بڑی بڑی جماعتیں ابھی تک صفر کے برابر ہیں۔پانچ سات سو افراد کی جماعتوں نے اگر ڈیڑھ دو سو روپیہ دے دیا تو یہ نہ دینے کے ہی برابر ہے۔ان کو تو آٹھ دس ہزار روپیہ دینا چاہیے۔اس لیے میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دوست ہے اپنا فرض ادا کریں۔ہم جانتے ہیں کہ اگر انسان مدد نہیں کریں گے تو فرشتے مدد کریں گے۔مگر ہم کتنے بد قسمت ہوں گے وہ لوگ جنہوں نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اللہ تعالیٰ سے یہ تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔مگر جب عمل کا وقت آیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔بیعت کے لیے انہیں کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔بلکہ انہوں نے اپنی سرخروئی کے لیے خدا تعالیٰ سے یہ عہد باندھا تھا۔اگر وہ میری آواز کو سن کر قربانی نہ کریں گے تو وہ خدا تعالیٰ سے بد عہدی کر۔والے ہوں گے۔کیونکہ انہوں نے میرے ہاتھ پر دراصل اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا۔