خطبات محمود (جلد 25) — Page 324
1944ء 324 خطبات محمود وقف کی ہیں۔ مگر ہزاروں ہیں جنہوں نے ابھی توجہ نہیں کی۔ بہر حال میں نے اپنا فرض ادا کر دیا اور آواز اُن تک پہنچا دی ہے۔ اب بھی اگر وہ یا ان کی اولا دیں ان نعمتوں سے محروم رہیں جو اللہ تعالیٰ ان کو دینا چاہتا ہے تو خود اپنے آپ کو یا اپنے والدین کو الزام دیں۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور بری ہوں کیونکہ میں نے خدا تعالیٰ کی آواز کو ان تک پہنچادیا۔ خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جو ہر قربانی کے لیے تیار ہو۔ ایسا شخص جو اُن تمام سامانوں کو جو اُس کے پاس ہیں خدا تعالی کی راہ میں قربان کر دینے کے لیے تیار نہیں وہ وقت آنے پر کچانی دھا گا ثابت ہو گا اور اسلام کی جنگ میں فاتح سپاہی کی حیثیت ہر گز حاصل نہ کر سکے گا۔ بہر حال ہم نے جدوجہد شروع کر دی ہے اور بعض مراحل طے بھی کر لیے ہیں۔ اب پانچویں مرحلہ کا کام شروع ہے۔ علماء پیدا کرنے کے لیے میں نے جامعہ احمدیہ کی شکل بدل دی ہے اور اب اسے ایسی صورت میں چلایا جائے گا کہ جلد سے جلد اچھے علماء پیدا ہو سکیں۔ اِس راہ میں مولوی فاضل کلاس ایک روک تھی جسے اب اُڑا دیا گیا ہے۔ اور ایسے رنگ میں اس کا نصاب بدل دیا گیا ہے اور اپنی ہدایات کے ماتحت اس میں ایسی تبدیلی کرائی ہے کہ جس سے جلد از جلد علماء پیدا ہو سکیں۔ مدرسہ احمدیہ کا نصاب بھی ایسے رنگ میں تبدیل کیا جا رہا ہے کہ اس میں تعلیم پانے والے جلد از جلد کسی نہ کسی علم کے عالم بن سکیں۔ بے شک یہ لڑائی کا بگل نہیں مگر پریڈ کا بگل ضرور ہے۔ اور جو شخص پریڈ کا بگل سُن کر پریڈ میں شامل نہیں ہوتا وہ لڑائی میں شامل نہیں ہو سکتا۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں اسلام کا درد ہے یہ بنگلہ سن کر ان کے دل اچھلنے لگ جانے چاہیں۔ جب لڑائی کا بگل بجتا ہے تو رسالہ کے گھوڑوں میں بھی ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہنہنانے لگتے ہیں۔ وہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ اب کی میدانِ جنگ میں اپنی گردنیں کٹوا کر سر خرو ہونے کا وقت آپہنچا ہے۔ لڑائی کا بگل تو جب اللہ تعالیٰ چاہے گا بجے گا۔ پریڈ کا بگل بجادیا گیا ہے اور چاہیے کہ اسلام کا درد رکھنے والے دلوں میں یہ بگل ایک غیر معمولی جوش پیدا کرنے کا موجب ہو۔ وقت آگیا ہے کہ جن نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں وہ جلد سے جلد علم حاصل کر کے اس قابل ہو جائیں کہ انہیں اسلام کی جنگ میں اُسی طرح جھونکا جاسکے جس طرح تنور میں لکڑیاں جھونکی جاتی ہیں۔ اس جنگ میں