خطبات محمود (جلد 25) — Page 325
$1944 325 خطبات محمود وہی جرنیل کامیاب ہو سکتا ہے جو اس لڑائی کی آگ میں نوجوانوں کو جھونکنے میں ذرا رحم نہ سوس کرے۔اور جس طرح ایک بھڑ بھونجا چنے بھونتے وقت آموں اور دوسرے درختوں کے خشک پتے اپنے بھاڑ میں جھونکتا چلا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اُس کے دل میں ذرا بھی رحم پیدا نہیں ہوتا اسی طرح نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونکتا چلا جائے۔اگر بھاڑ میں پتے جھونکنے کے بغیر چنے بھی نہیں بھن سکتے تو اس قسم کی قربانی کے بغیر اسلام کی فتح کیسے ہو سکتی ہے ہے۔پس اس جنگ میں وہی جرنیل کامیابی کا منہ دیکھ سکے گا جو یہ خیال کیے بغیر کہ کس طرح ماؤں کے دلوں پر چھریاں چلتی ہیں، باپوں اور بھائیوں بہنوں کے دلوں پر چھریاں چل رہی ہیں نوجوانوں کو قربانی کے لیے پیش کرتا جائے۔موت اُس کے دل میں کوئی رحم اور درد پیدا نہ کرے۔اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا جھنڈا اُس نے دنیا میں گاڑنا ہے اور سنگدل ہو کر اپنے کام کو کرتا جائے۔جس دن مائیں یہ سمجھیں گی کہ اگر ہمارا بچہ دین کی راہی میں مارا جائے تو ہمارا خاندان زندہ ہو جائے گا، جس دن آپ یہ سمجھنے لگیں گے کہ اگر ہمارا بچہ شہید ہو گیا تو وہ حقیقی زندگی حاصل کر جائے گا اور ہم بھی حقیقی زندگی پالیں گے۔وہ دن ہوگا ہی جب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو زندگی ملے گی۔جن نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اُن کو بلانا شروع کر دیا گیا ہے۔بعض کو بلا لیا گیا ہے اور بعض کو بلانے کی تیاری کی جارہی ہے اور جب مدرسہ کھلے گا ان کو بلا لیا جائے گا۔لیکن جو نوجوان آئیں وہ یہ عزم صمیم لے کر آئیں کہ وہ ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔وہ خوب یاد رکھیں کہ دین کی خدمت لیتے وقت کسی رحم سے کام نہیں لیا جائے گا۔اسلام کی ہے جنگ جیتنے کا سوال وہی لوگ حل کر سکتے ہیں جو ایسے سنگدل ہوں جیسے شاعروں کے معشوق سنگدل سمجھے جاتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس سکیم کے ماتحت اگر اساتذہ اور طالب علم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں تو جلد ہی علماء کی ایک ایسی جماعت تیار ہو سکتی ہے جو اسلام کا ہے جھنڈا بیرونی ممالک میں گاڑ سکے اور اسلام واحمدیت کی تعلیم دلوں میں قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے۔اس کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے۔ہمارا صرف یہی کام نہیں کہ علماء پیدا کریں