خطبات محمود (جلد 25) — Page 320
$1944 320 محمود تو اگر کوئی کام فردی ہو تو اتنے مراحل کے بعد کہیں جاکر ارادہ کی تکمیل ہوتی ہے۔اور اگر وہ کام قومی ہو تو اُس کے لیے کام کے سامان جمع کرنے کے علاوہ لوگوں کے دلوں میں تحریک کرنا کہ وہ سامان مہیا کریں ایک مرحلہ ہوتا ہے۔لوگوں سے اپیل کرنی پڑتی ہے ، اُن کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ ضروری کام ہے اس کی تکمیل میں مدد دیں۔تو ایک کام کی تکمیل کے لیے کئی مرحلے ہوتے ہیں اور ان تمام سے گزر کر ہی وہ کام ہو سکتا ہے۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ ادھر خیال پید اہوا اور اُدھر کام ہو گیا۔حالانکہ خیال تو محض ابتدائی حالت ہے۔خیال کے بعد ارادہ، ارادہ کے بعد تفصیلی تشکیل، پھر ان اسباب کا مہیا کرنا جو حقیقی اسباب مہیا کرنے کا موجب ہو سکتے ہیں۔اور پھر اگر وہ قومی کام ہو تو سامان ذرائع جمع کرنے سے پہلے لوگوں کو اُس کے لیے تحریک کرنا بھی ایک مرحلہ ہے۔پھر چھٹا مر حلہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی اسباب مہیا کیے جائیں۔پھر ساتویں اُن لوگوں کو جمع کر ناجو تفصیلی تشکیل کی تکمیل کر سکیں۔پھر اس کے بعد یہ مرحلہ باقی ہوتا ہے کہ اُس کی تزئین کی جائے اور اُسے قابل رہائش اور قابل سکون و آرام و آسائش بنایا جائے۔اور اگر وہ مکان کرایہ پر دینے کے لیے ہے تو نواں مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں رہنے کے لیے کوئی اچھا کرایہ دار تلاش کریں۔تو مکان جیسی معمولی چیز جو ہر خاندان کے لیے ضروری ہے آٹھ نو مراحل گزرنے کے بعد مکمل ہوتی ہے۔قرآن کریم نے انسانی پیدائش کے بھی سات مراحل بیان کیے ہیں۔1 اسی طرح وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے اس کے بھی کئی مراحل ہیں۔ان میں سے بعض تو یسے ہیں کہ ابھی اُن کا خیال بھی ہمارے اندر پیدا نہیں ہوا۔بعض کا خیال تو پیدا ہو چکا ہے ابھی ارادہ نہیں کر سکے۔بعض کا ارادہ کر چکے ہیں مگر اُس کی تفصیلی تشکیل ابھی نہیں کی۔پھر بعض کے سامان ذریعہ ابھی مہیا نہیں کر سکے۔بعض کے حقیقی سامان ابھی مہیا نہیں کیے گئے۔بعض کے سامان بھی مہیا کر لیے ہیں مگر ابھی اس سامان کو استعمال کرنے والے آدمی مہیا نہیں کر سکے۔اور بعض کام ایسے ہیں کہ اگر آدمی مل گئے ہیں تو ابھی کام شروع نہیں کر سکے۔کام شروع کرنا بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔بعض کام اگر شروع ہیں تو تکمیل ابھی نہیں ہوئی۔اور بعض کی اگر تکمیل بھی ہو چکی ہے تو ابھی تزئین باقی ہے یعنی اسے ابھی قابل استعمال بناتا ہے۔