خطبات محمود (جلد 25) — Page 321
خطبات محمود 321 $1944 ر بعض ایسے ہیں کہ اگر تکمیل کے بعد تزئین بھی ہو چکی ہے تو کرایہ دار کی تلاش باقی ہے۔گو یا کئی ضروی کام ہیں جن کی ابتدا بھی ابھی ہم نے نہیں کی اور بعض کی ابھی ابتدائی حالت ہے۔یوں نام کے طور پر تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی جنگ لڑنی ہے مگر اسلام کی جنگ کوئی آسان کام نہیں۔یہ پتھر اٹھا کر دریا میں پھینک دینا نہیں بلکہ اتنا اہم اور اتنا مشکل کام ہے کہ جب تک مردوں، عورتوں، بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کی صحیح رنگ میں تعلیم نہ ہو یہ کام نہیں ہو سکتا۔جب تک لوگوں کے دلوں اور دماغوں کی صحیح رنگ میں تعلیم اور تربیت نہ ہو یہ کام نہیں ہو سکتا۔اور یہ تعلیم کا کام بھی آسان نہیں۔یہ نہیں کہ ایک کتاب لکھ لی اور یہ کام ہو گیا۔کوئی کتاب یہ کام نہیں کر سکتی۔قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں ہو سکتی۔لیکن قرآن کریم کے موجود ہونے کے باوجود لوگوں کے دلوں میں ایمان نہیں۔اس کے باوجود اسلام کی عمارت منہدم ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم لوگوں کے دلوں میں قائم کی جائے تب جاکر اسلام کی گری ہوئی عمارت دوبارہ قائم ہوگی۔اور ابھی احمدیہ جماعت کے دوستوں میں بھی قرآن کریم کی تعلیم کو قائم کرنا باقی ہے۔ابھی بہت سے دوست ہیں جنہوں نے اس کام کا ابھی خیال ہی کیا ہے۔بعض ابھی ارادہ ہی کر رہے ہیں، بعض نے اس کام کی تفصیلی تشکیل نہیں کی، بعض نے سامانِ ذریعہ بھی ابھی مہیا نہیں کیے یعنی قربانی کا مادہ ان میں ابھی پیدا نہیں ہوا۔بعض نے بے شک مالی قربانیوں کا تہیہ تو کر لیا ہے مگر محض مال سے تو دین کا کام نہیں ہو جاتا بلکہ یہ کام ہوتا ہے دین سیکھنے سے اور اپنے اخلاق درست کرنے سے۔پھر ابھی وہ مستری بھی ہم تیار نہیں کر سکے جو مکان بناتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ روحانی عمارتوں کے معمار فرشتے ہوتے ہیں۔جب کوئی انسان ایسے مرحلہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنا جان و مال، اولاد، عزت، آبرو غرضیکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے : ہو تب خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کام کی تکمیل کے لیے نازل ہوتے ہیں۔اسلام نماز کا نام نہیں، اسلام روزوں کا نام نہیں، حج اور زکوۃ کا نام نہیں، اسلام ایمان بالقضاء کا نام نہیں، ایمان بالانبیاء کا نام نہیں، ایمان بالدعاء کا نام نہیں، حشر و نشر اور بعث بعد الموت کا نام ایمان نہیں۔جس طرح اینٹ، لکڑی اور لوہے کا نام عمارت نہیں بلکہ عمارت نام ہے اس نسبت کا جو