خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 237

1944ء 237 خطبات محمود قرآن کریم نے آپ کو سِرَاجًا مُنِيرًا 2 قرار دیا ہے اور سراج منیر قرار دینے میں جہاں اور حکمتیں ہیں وہاں ایک عظیم الشان حکمت ان الفاظ میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو پروانوں کی طرح آپ پر جانیں قربان کرتے رہیں گے۔ جس طرح لیمپ روشن ہو تو پروانے اُس پر گرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ہمیشہ امت محمدیہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں رہیں گے جو پروانوں کی طرح شمع محمدی پر قربان ہوتے رہیں گے۔ مگر پروانے اُس زمانہ میں ہوتے کی ہیں جب برسات کا موسم ہو۔ یہ نہیں ہوتا کہ موسم خواہ کوئی ہو ۔ جب بھی لیمپ جلایا جائے کہ پروانے اُس پر گرنے لگیں۔ پروانوں کے نکلنے کا موسم برسات ہے۔ اسی طرح عالم روحانی میں جب بھی برسات کا موسم ہو گا جب آسمان سے الہام الہی کی تازہ بارش نازل ہو گی۔ اسی زمانہ میں ایسی جماعت پیدا ہو گی جو پروانوں کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی جانیں قربان کر دے گی۔ دیکھو! ہر زمانہ میں پروانے شمع پر نہیں گرتے۔ بلکہ برسات کے موسم میں گرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سِرَاجًا مُنِيرًا کہہ کر اِس امر کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ جب نورِ نبوت ظاہر ہو گا، جب الہام کی بارش آسمان سے اترے گی، جب عالم روحانی میں برسات کا موسم ہو گا اُس وقت ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو پروانے بن بن کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع پر قربان ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے زمانوں میں قرآن بے شک موجود تھا، لا الهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کہنے والے مسلمان بے شک موجود تھے، دعائیں اور عبادتیں کرنے والے لوگ بے شک پائے جاتے تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چراغ پر پروانے نہیں گر رہے تھے۔ لیکن ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور ادھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پروانے گرنے لگ گئے۔ کیونکہ یہ الہام اور وحی کی ہی بارش کا وقت تھا۔ پس سِرَاجًا مُنِيرًا کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ جب بھی بارش وحی اور بارش کی الہام نازل ہو گی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پروانے گرنے شروع ہو جائیں گے جو آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک ثبوت ہو گا کہ الہام ہوتا ہے "ب" پر اور پروانے گرنے لگ جاتے ہیں " الف " پر ۔ گویا یہ ثبوت ہو گا آپ کی صداقت کا اور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا