خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 236

$1944 236 خطبات محمود ہوتے ہوتے سمندر کی تہہ جو بعض دفعہ دو دو تین تین میل گہری ہوتی ہے ان مونگوں سے بھر جاتی اور وہاں زمین پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک دن انہی مونگوں کے مرنے سے وہاں ایک جزیرہ آباد ہو جاتا ہے۔جہاں درخت اُگتے ہیں، کھیتیاں ہوتی ہیں ، مکانات بنتے ہیں اور ہزاروں لوگ رہائش رکھتے ہیں۔اس قسم کے بیسیوں جزائر ہیں جو دنیا میں پائے جاتے ہیں۔کورل آئی لینڈز (Coral Islands)انہی کو کہتے ہیں اور وہ اسی طرح بنتے ہیں کہ ایک کثیر التعداد کورلز کی مرکر جان دے دیتی ہے۔جن پر اور لاکھوں کروڑوں کورلز چڑھ کر جان دے دیتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی قربانی سے ایک زمین آباد ہو جاتی ہے۔پس تعجب کی بات ہے کہ ہمارے اندر ایک کورل جتنی قربانی کا مادہ بھی نہ ہو اور ہم یہ خیال کریں کہ جب تک ہماری قربانیوں کا ہماری ذات کو فائدہ نہ ہو اُس وقت تک قربانیاں کرنا بے معنی ہے۔تمہیں اس مثال کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اگر تم مر جاتے ہو اور تمہاری قربانیوں سے دو سو یا چار سو سال کے بعد جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے تو تمہاری قربانی رائیگان نہیں ہے گئی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہو گئی۔پھر ہمارے لیے تو ایک زائد بات یہ بھی ہے کہ جو شخص مر جاتا ہے اُسے اپنی قربانیوں کا مرتے ہی انعام ملنا شروع ہو جاتا ہے۔پھر قربانیوں کی ایک اور مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔برسات کا موسم ہو اور تم لیمپ روشن کرو تو تم دیکھتے ہو کہ کس طرح پروانے اس پر گر گر کر مرتے چلے جاتے ہیں۔ہمارے شاعروں نے تو شمع اور پروانے کا اپنے اشعار میں اس قدر ذکر کیا ہے کہ کوئی شاعر ایسا نہیں جس کے کلام میں شمع اور پروانے کا قصہ نہ آتا ہو۔پھر تمہیں سوچنا چاہیے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کا حسن ہماری نظروں میں ایک شمع جیسا بھی نہیں جو چھ پیسے کو مل جاتی ہے؟ اور کیا ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ہے دین اسلام سے اتنی محبت بھی نہیں جتنی ایک پروانے کو شمع سے ہوتی ہے؟ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن ہم کو شمع جیسا بھی نظر نہیں آتا اور اگر اپنا عشق ہم کو پروانے جیسا بھی نظر نہیں آتا تو سچی بات یہی ہے کہ ہم نے اُس حسن کو دیکھا ہی نہیں اور ہم نے اپنے عشق کو سمجھا ہی نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن تو کروڑوں شمعوں سے زیادہ ہے۔اس لیے ہے