خطبات محمود (جلد 25) — Page 238
خطبات محمود 238 $1944 کہ آنے والا آپ کے شاگردوں اور آپ کے متبعین میں سے ہی ہے۔وہ اُس چمنی کی طرح ہوگا جو روشنی کے ارد گرد ہوتی ہے۔بے شک چمنی روشنی کو پھیلا رہی ہوتی ہے مگر پروانوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ چمنی کو چیر کر روشنی تک پہنچ جائیں۔اور اگر سنگی روشنی ہو تو وہ وہاں پہنچ پانی جاتے اور شمع پر گر کر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کے سامان تو پیدا کیے ہیں مگر ہماری جماعت نے ابھی اپنے کام کی اہمیت کو پورے طور پر سمجھا نہیں۔مثلاً میں نے اعلان کیا تھا کہ ہمیں تبلیغ کے لیے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی اس غرض کے لیے وقف کر دیں۔یہ کام اپنی ای ذات میں اس قدر اہم ہے کہ ہم اس پر جتنا بھی غور کریں اس کی اہمیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔سینکڑوں ملک ہیں جن میں ہم نے تبلیغ کرنی ہے، سینکڑوں زبانیں ہیں جو ہم نے سیکھنی ہیں، سینکڑوں کتابیں ہیں جو ان ممالک میں تبلیغ اسلام کے لیے ہم نے شائع کرنی ہیں۔پس اس فرض کے لیے ہمیں سینکڑوں مبلغوں کی ضرورت ہوگی، سینکڑوں ترجمہ کرنے والوں کی ضرورت ہو گی اور پھر ان مبلغوں اور سلسلہ کے لٹریچر اور دیگر اخراجات کے لیے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہو گی اُس کا کچھ اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ میں نے ایک دن حساب کیا کہ میں اگر ہم پانچ ہزار مبلغ رکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف 3 کو ایک دوسرے رنگ میں پورا کرنے کا ذریعہ ہے تو کس قدر خرچ ہو گا۔میں نے اندازہ کیا کہ اگر ی ہم پانچ ہزار مبلغ رکھیں تو ان کا ایک سال کا کم سے کم خرچ دو کروڑ روپیہ ہو گا۔امریکہ میں نے صرف روٹی کھانے کے لیے تین سو روپیہ ماہوار کی ضرورت ہوتی ہے، یورپ میں کم سے کم ہے پونے دو سو روپیہ ماہوار میں گزارہ ہوتا ہے اور زیادہ تر یہی ممالک ہیں جن میں ہم نے تبلیغ کرنی ہے۔ہندوستان سے باہر مشرقی ممالک میں سوڈیڑھ سو روپیہ ماہوار میں بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔پھر جو آدمی تبلیغ کے لیے جائیں گے اُن کا کرایہ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔اور پھر چند سال کے بعد جب پہلے مبلغ واپس آئیں گے اور دوسرے مبلغ اُن کی جگہ بھیجے جائیں گے تو ان کی آمد ورفت پر بھی بہت سا روپیہ خرچ ہو گا۔اسی طرح ان کے بیوی بچوں کا ہمیں گزارہ مقرر کرنا پڑے گا۔پھر وہاں ملک کے مختلف حصوں میں دورے کرنے کے لیے روپیه