خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 224

خطبات محمود 224 $1944 حصہ لیں اور کوشش کریں کہ یہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ چند ماہ کے اندر اندر آجائے تا کالج کے اخراجات کا بوجھ انجمن پر سے اتر جائے۔میری تجویز تو یہ ہے کہ پانچ سال کا بجٹ انجمن کے پاس محفوظ ہونا چاہیے۔اسی صورت میں صحیح رنگ میں اور دلیری کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے۔اس وقت انجمن کا بجٹ پانچ لاکھ کے قریب ہوتا ہے اور اس طرح کم از کم پچیس لاکھ روپیہ کا ریز رو فنڈ ہونا چاہیے۔مگر انجمن ابھی پرانے قرضوں سے آزاد نہیں ہو سکی اور ایسی حالت میں اس پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے اور مخلصین کا فرض ہے کہ اس خرچ کو پورا کریں۔جن دوستوں کا میں نے ذکر کیا ہے وہ خصوصیت سے اس میں حصہ لیں اور باقی دوست بھی جس قدر دے سکیں دیں۔باقی دوست اگر ماہوار آمد کا آدھا حصہ بھی دے دیں مثلاً دس روپے ماہوار پانے والا پانچ روپے دے دے اور پچاس والا پچھیں تو یہ خرچ آسانی سے پورا ہو سکتا ہے۔مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شخص ماہوار آمد کا نصف ہی دے۔بعض لوگوں پر تحریک جدید اور دوسرے چندوں کی وجہ وجہ سے بوجھ زیادہ ہے وہ جتنا بھی دے سکیں دے سکتے ہیں۔مومن کا کام یہی ہے کہ نیکی کے کام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے۔اس کے علاوہ گریجوایٹوں اور ایم اے پاس نوجوانوں کی بھی کالج کے لیے ضرورت ہے تا پروفیسر وغیرہ تیار کیے جاسکیں۔ایسے ہی واقفین میں سے آئندہ ناظروں کے قائمقام بھی تیار کیے جاسکیں گے۔آگے ایسے لوگ نظر نہیں آتے جنہیں ناظروں کا قائمقام بنایا جاسکے۔میری تجویز ہے کہ واقفین نوجوانوں کو ایسے کاموں پر بھی لگایا جائے اور ایسے رنگ میں اُن کی تربیت کی جائے کہ وہ آئندہ موجودہ ناظروں کے قائمقام بھی ہو سکیں۔پس ایم۔اے پاس نوجوانوں کی ہمیں ضرورت ہے جو کوئی خاص علم پڑھانے کا ملکہ رکھتے ہوں۔اگر گریجوایٹ بھی ہوں تو ایسے رنگ میں ان کی تربیت کی جاسکتی ہے کہ وہ کام دے سکیں گے مگر بہتر یہی ہے کہ ایم۔اے پاس ہوں۔دنیا اس قدر تیزی سے بدل رہی ہے کہ جب تک ہم ایک میل کے مقابلہ میں سو میل نہ چلیں ہم اسے زیر نہیں کر سکتے۔پس ہمیں چاہیے کہ جلد جلد بڑھیں۔مجھے رویا میں بھی یہی دکھایا گیا ہے کہ میں جلد جلد بڑھ رہا ہوں۔شاید میرے کام کا وقت تھوڑا ہو اور