خطبات محمود (جلد 25) — Page 223
$1944 223 خطبات محمود شروع کر دیا ہے۔ابتدائی اخراجات کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اور ڈگری کالج بنانے کے لیے مزید ڈیڑھ لاکھ روپیہ درکار ہے۔ڈگری کالج کے لیے جو خرچ چاہیے وہ تو ڈیڑھ دو سال کے بعد پیش آئے گا اِس وقت ڈیڑھ لاکھ روپیہ درکار ہے۔عمارت وغیرہ کے لیے قرض لے کر روپیہ دے دیا گیا ہے تا کام شروع ہو سکے۔جن لوگوں کو یہ احساس ہے کہ میٹرک پاس کرنے کے بعد بیرونی کالجوں میں جانے سے ہمارے نوجوانوں پر برا اثر پڑتا ہے ہے کیونکہ ان کی عمر اور علم ابھی ایسا نہیں ہوتا کہ بیرونی اثرات سے وہ محفوظ رہ سکیں وہ خصوصیت سے اس چندہ میں حصہ لیں تا ہمارے بچے باہر جانے سے پہلے کم سے کم دو سال اور یہاں رہ سکیں اور بڑی عمر کے ہو کر باہر جائیں۔پس میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ عام چندوں کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے وہ اس چندہ میں حصہ لے۔اور مجھے امید ہے کہ جماعت کا مالدار خصوصاً وہ لوگ جن کو جنگ کی وجہ سے ٹھیکوں وغیرہ کے ذریعہ یا دوسرے ایسے ہی کاموں سے زیادہ روپیہ ملا ہے مثلاً تاجر وغیرہ ہیں جن کی آمدنیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے، وہ اس طرف خاص طور پر توجہ کریں۔یا وہ زمیندار جن کی آمد نیاں بڑھ گئی ہیں۔ہمارے ملک میں عام زمینداروں کی زمینیں پانچ دس ایکڑ ہی ہیں اور ایسے زمینداروں کے گھروں میں اجناس می کی قیمتیں بڑھ جانے کے باوجود دولت جمع نہیں ہو گئی، زیادہ سے زیادہ قرضہ لینے سے بچ گئے ہیں اور وہ روٹی کھانے لگے ہیں۔مگر جو بڑے بڑے زمیندار ہیں ان کو کافی روپیہ مل گیا ہے اور ہم وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس روپے سے مربعے اور جائیدادیں وغیرہ خرید لیں۔وہ بے شک خریدیں میں اس سے روکتا نہیں کیونکہ اس سے بھی سلسلہ کی دولت بڑھتی ہے۔مگر میں ان می سے یہ ضرور کہوں گا کہ وہ دین کے حصہ کو نہ بھولیں۔پس ایسے لوگ اِس چندہ میں خاص طور پر حصہ لیں۔میں کسی کو محروم نہیں کرتا۔غریب بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اگر کوئی غریب ہے ایک دھیلا بھی دیتا ہے تو وہ رڈ نہیں بلکہ شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور اس امید کے ساتھ قبول کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک لاکھ دینے والے امیر سے بھی زیادہ ثواب دے گا۔گو اس کا اعلان اخباروں میں ہو چکا ہے مگر اب اس خطبہ کے ذریعہ میں باقاعدہ مقامی دوستوں کو اور پھر اخبار کے ذریعہ بیرونی دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اِس چندہ میں