خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 208

1944ء 208 خطبات محمود دو جمعوں کے درمیان گزرتا ہے ہمارے لیے مشکلات بڑھاتا جاتا ہے اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو جلد سے جلد ایسے رنگ میں منظم کر لیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی بنیاد دین کی اشاعت کے لیے قائم ہو جائے کہ جس پر آئندہ سہولت کے ساتھ عمارت بنائی جاسکے۔ میں جس سکیم کی طرف سب سے پہلے توجہ دلانا چاہتا تھا وہ جماعت میں علماء کے پیدا کرنے کے متعلق تھی۔ میر ادل کانپ جاتا ہے اس خیال سے کہ اس بارہ میں اس وقت تک ہم سے بہت بڑی کو تاہی ہوئی ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاول کے زمانہ میں جن لوگوں کا انجمن پر تسلط تھا انہوں نے چاہا تھا کہ دینی علوم سے جماعت کی توجہ ہٹا دی جائے اور احمد یہ سکول کو بند کر دیا جائے اور جس قدر روپیہ میسر ہو وہ قوم کے بچوں کو ڈاکٹر ، وکیل، بیرسٹر اور انجینئر وغیرہ بنانے پر صرف لو کیا جائے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ دینی علوم تو غیروں سے بھی لیے جاسکتے ہیں مگر دنیوی تعلیم جماعت کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اُس وقت بھی مجھے اس ناپاک سکیم کے توڑنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ 1908ء کے سالانہ جلسہ کی بات ہے۔ میری عمر اس وقت میں سال کی تھی اور میں کسی دوسرے کام میں مشغول تھا کہ کسی نے مجھے بتایا کہ مسجد مبارک میں جلسہ مشاورت ہو رہا ہے اور سلسلہ کے لیے سکیمیں سوچی جا رہی ہیں۔ باوجود یکہ میں انجمن کا ممبر تھا مگر مجھے کسی نے اس جلسہ کی اطلاع نہ دی تھی۔ میں یہ اطلاع ملتے ہی مسجد میں آیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں جماعتوں کے نمائندے جمع ہیں۔ خواجہ کمال الدین صاحب تقریر کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جماعت کی ترقی کے لیے ایسے مبلغوں کی ضرورت ہے جو بیرسٹر ، وکیل اور انجنیئر وغیرہ ہوں جو اپنا اپنا کام بھی کریں اور ساتھ سلسلہ کی تبلیغ بھی۔ مولویوں کی ہمیں ضرورت نہیں۔ یہ لوگ تو جماعت پر بار ہوتے ہیں اور ان کے گزارہ کی جماعت کو فکری ہوتی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ جو روپیہ مدرسہ احمدیہ پر خرچ ہوتا ہے اُسے محفوظ کر لیا جائے اور پھر وہ جماعت کے لڑکوں کو وکالت اور ڈاکٹری وغیرہ کی تعلیم دلوانے پر خرچ کیا جائے تا وہ اپنی روزی بھی کماسکیں، چندے بھی دیں اور تبلیغ بھی کرتے رہیں۔ اس طرح جماعت کو بہت ترقی حاصل ہو سکے گی۔ میرا علم اور تجربہ اُس وقت ایسانہ تھا کہ اس سکیم کے علمی پہلو پر زیادہ بحث کر سکتا۔ میں جب پہنچا تو جگہ بھی مجھے ایک کو نہ میں ملی جہاں لوگ مجوتیاں اُتارتے ہیں اور میں