خطبات محمود (جلد 25) — Page 209
خطبات محمود 209 $1944 وہیں کھڑا ہو گیا۔میں نے وہیں سے کہا کہ میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اُس وقت خواجہ صاحب کی پیش کردہ سکیم سے 99 فیصدی لوگ مسحور ہو چکے تھے کہ وہ سمجھتے تھے گویا کوئی سونے کی کان اُن کو مل گئی ہے اور اگر اس پر عمل کیا جائے تو جماعت کو بہت ترقی ہوگی اور دنیا کے کناروں تک آسانی سے تبلیغ ہو سکے گی۔اللہ تعالیٰ نے اُس وقت مجھے ایک نکتہ سو جھایا اور رمیں نے کھڑے ہو کر جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ اسلام کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس وقت تک دو جماعتیں کھڑی کی ہیں۔ایک وہ جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں تربیت پائی اور دوسری وہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں میں تربیت پائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد تمام عرب باغی ہو گیا تھا اور اکثر قبائل نے زکوۃ کا دینا بند کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ زکوۃ کا لینا صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی حق تھا۔قرآن کریم میں انہی کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً 1 یعنی اے محمد ! تو ان کے مالوں سے صدقات لے اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی نہ رہے تو یہ حکم بھی باطل ہو گیا اس لیے اب زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں۔مکہ مدینہ اور ایک اور قصبہ کے لوگ تھے جو ز کوۃ دینے کے لیے تیار تھے اور جو سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کے احکام ہمیشہ کے لیے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو گئے۔مدینہ چونکہ خلافت کا مرکز تھا اور حضرت ابو بکر مصر تھے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق زکوۃ وصول کی جائے۔اس لیے مرتدین نے چاروں طرف سے مدینہ پر چڑھائی شروع کر دی تا اس نظام کو توڑ دیں جو ان پر زکوۃ کا جو اپنانے کو تیار نہیں اور ان لشکروں میں جو می مدینہ پر چڑھائی کر رہے تھے بعض میں ایک ایک لاکھ سے زیادہ سپاہی تھے لیکن ان کے مقابل پر ہے صحابہ کی تعداد صرف چند ہزار تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے ماتحت ایک لشکر حضرت اسامہ بن زید کی قیادت میں شام کی طرف ایک ایسے حملہ کا جواب دینے کے لیے جانے کو تیار تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہوا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی وجہ سے چند روز کے لیے رُک گیا تھا۔اس گھر بہت کے عالم ہے میں ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکابر صحابہ ایک جگہ جمع ہوئے اور رضو