خطبات محمود (جلد 25) — Page 186
1944ء 186 خطبات محمود فرماتے ہیں۔ "قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اُسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ 15 اب دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ایک مقدمہ پر جا رہے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ اُس سے پیشتر کتاب مکمل ہو جائے مگر آپ سخت بیمار ہو گئے۔ اس پر آپ نے حضرت شہید مرحوم کی روح کو جو آپ کے خادموں میں سے ایک خادم تھے اپنے سامنے رکھ کر دُعا کی کہ الہی ! اس کی خدمت اور قربانی کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ کتاب لکھنی چاہی تھی۔ تو مجھے اپنے فضل سے صحت عطا فرما۔ اور پھر خدا نے آپ کی اس دعا کو قبول فرمالیا۔ چنانچہ آپ نے اس واقعہ کا ہیڈنگ ہی یہ رکھا ہے کہ " ایک جدید کرامت مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم ) حوم کی "۔ پس یہ چیزیں صلحاء اور اتقیاء کے طریق صلحاء اور اتقیاء کے طریق سے ثابت ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس رنگ میں کئی بار دعائیں فرمائی ہیں۔ جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ مردہ کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ وہ ہمیں کوئی چیز دے گا۔ یہ امر صریح نا جائز ہے اور اسلام اسے حرام قرار دیتا ہے۔ باقی رہا اس کا یہ حصہ کہ ایسے مقامات پر جانے سے رقت پیدا ہوتی ہے یا یہ حصہ کہ انسان ان وعدوں کو یاد دلا کر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کیے ہوں دعا کرے کہ الہی ! اب ہمارے وجود میں تو ان وعدوں کو پورا فرما۔ یہ نہ صرف ناجائز نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے اور مومن کا فرض ہے کہ وہ برکت کے ایسے مقامات سے فائدہ اُٹھائے۔ مثلاً جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر دعا کے لیے جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ الہی ! یہ وہ شخص ہے جس کے ساتھ تیرا یہ وعدہ تھا کہ میں اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کروں گا۔ تیر اوعدہ تھا کہ میں اس کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ تیرا وعدہ تھا کہ اسلام کی فتح میں اس کے ہاتھ پر مقدر کروں گا۔ تیر اوعدہ تھا کہ شیطان اس کے ہاتھ سے آخری شکست کھائے گا۔ اے ہمارے رب! یہ تیرے وعدے اِس شخص سے تھے جو اب مٹی کے ڈھیر تلے مدفون ہے اور اب ان وعدوں کا پورا کرنا ہمارے ہی ذمہ ہے۔