خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 185

خطبات محمود 185 $1944 تصدیق ہوتی ہے۔اخبار "بدر" میں بھی چھپا ہوا موجود ہے اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ دہلی تشریف لے گئے تو آپ مختلف اولیاء کی قبروں پر دُعا کرنے کے لیے گئے۔چنانچہ خواجہ باقی باللہ صاحب، حضرت قطب صاحب، خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء، شاہ ولی اللہ صاحب، حضرت خواجہ میر درد صاحب اور نصیر الدین صاحب چراغ کے مزارات پر آپ نے دعا فرمائی۔اس وقت آپ نے جو کچھ فرمایا وہ جہاں تک ہے مجھے یاد ہے گو ڈائری اس طرح چھپی ہوئی نہیں یہ ہے کہ دنی والوں کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔ہم نے چاہا کہ اُن وفات یافتہ اولیاء کی قبروں پر جاکر اُن کے لیے ، اُن کی اولادوں کے لیے اور خود دہلی والوں کے لیے دعائیں کریں تاکہ ان کی روحوں میں جوش پید اہو اور وہ بھی ان لوگوں کی ہدایت کے لیے دعائیں کریں۔ڈائری میں صرف اس قدر چھپا ہے کہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہم نے قبروں پر اُن کے لیے بھی دعا کی ہے اور اپنے لئے بھی دعا کی ہے اور بعض امور کے لیے بھی دعا کی ہے۔14 اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خالی ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قبر پر جاکر صرف مرنے والے کے لیے دعا کرنی چاہیے ان کا اس ڈائری سے رڈ ہوتا ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ہم نے ان کے لیے بھی دعا کی اور اپنے لیے بھی کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب فرمائے اور اور کئی امور کے لیے بھی۔یہ حضرت یو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ڈائری ہے جو ”بدر “ میں چھپی ہوئی موجود ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرماتے ں کہ میرا ارادہ تھا گورداسپور ایک مقدمہ پر جانے سے پیشتر اس کتاب کو مکمل کر لوں اور اسے اپنے ساتھ لے جاؤں۔مگر مجھے شدید درد گردہ ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ کام نہیں ہو سکے گا۔اُس وقت میں نے اپنے گھر والوں یعنی حضرت اماں جان سے کہا کہ میں دُعا کرتا ہوں آپ آمین کہتی جائیں۔چنانچہ اس وقت میں نے صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب شہید کی روح کو سامنے رکھ کر دعا کی کہ الہی ! اس شخص نے تیرے لیے قربانی کی ہے اور میں نے اس کی عزت کے لیے یہ کتاب لکھنا چاہتا ہوں تو اپنے فضل سے مجھے صحت عطا فرما۔چنانچہ آپ کے