خطبات محمود (جلد 25) — Page 187
خطبات محمود 187 $1944 پس اے خدا! ہم تجھ سے ان وعدوں کا واسطہ دے کر عرض کرتے ہیں کہ ہم ان کاموں کے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، ہم کمزور ہیں، ناطاقت ہیں، گنہگار ہیں اور خطا کار ہیں، جماعت میں ابھی اتنی قربانی کا مادہ اور اس قدر فدائیت نہیں پائی جاتی جس قدر قربانی اور فدائیت اِن عظیم الشان کامیابیوں کے لیے ضروری ہے۔تو اپنے فضل سے آسمان سے فرشتے نازل فرما، تو ہمارے قلوب کو صیقل فرما، تو آسمانی انوار سے ہمارے دل اور دماغ کو روشن فرما، تُو ہم کو ایمان بخش اور ان لوگوں کو بھی ایمان بخش جو کروڑوں کی تعداد میں دنیا میں پائے جاتے ہیں، تو ہم کو سلسلہ پر استقامت عطا فرما اور اُن لوگوں کو بھی سلسلہ میں داخل فرما جو کروڑوں کی تعداد میں ہے ابھی اِس سلسلہ کے نام سے بھی نا آشنا ہیں۔تو اسلام کی فتح کا دن قریب سے قریب تر لا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی بادشاہت کو دنیا میں قائم فرما دے۔یہ دعا اگر کی جائے تو بتاؤ اس کے میں کونسا شرک ہے۔یہ تو وہ خدا کا فیصلہ ہے جو وہ آسمان پر کر چکا۔اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ زمین پر بھی نافذ ہو۔پس ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا کے لیے جانا صرف اس لیے ہے کہ وہ نزولِ برکات کا مقام ہے اور اس لیے ہے کہ وہاں رقت زیادہ پیدا ہوتی ہے اور اس طرح ہم آسانی سے خدا تعالی کی غیرت کو بھر کا سکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر یہ انکشاف فرمایا ہے کہ میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ لڑکا ہوں جس کی نسبت آپ کو یہ خبر دی گئی تھی کہ اسلام کی منی فتوحات اس کے ہاتھ پر ہوں گی تو اس کے بعد میرے لیے ضروری تھا کہ میں اسلام کی فتح کے ہے لیے کوئی روحانی قدم اُٹھاتا۔میں دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے متعلق جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں ان میں سے اکثر پوری ہو چکی ہیں اور واقع یہ ہے کہ مجھے مے کوئی ایسی خبر نہیں ملی جس کی بناء پر میں کہہ سکوں کہ میری زندگی ابھی بہت باقی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 16 اللہ تعالیٰ تجھے قتل سے محفوظ رکھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ فری میسن ترے قتل پر مسلط نہیں کیے جائیں گے۔17 مگر میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا ایسا کوئی وعدہ نہیں۔مجھ سے خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ فقط یہ ہے