خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 132

1944ء 132 خطبات محمود --------------------------------------------------- مگر شہروں کی برکتیں واپس نہیں لے گا۔ لیکن بعض شہر ایسے ہوتے ہیں جن کو عارضی برکتیں مل جاتی ہیں۔ وہ اگر ان کو دائمی بنانا چاہیں تو دائمی بن جاتی ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیں تو وہ چھوٹ جاتی ہیں۔ ہی ہوا کہ میں دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ الہام بھی یہاں لاہور میں سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را 4 یہ الهام در حقیقت آپ کی وفات کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان سے یہ کلمات جاری فرمائے کہ سپردم بتو مایه خویش را اے خدا! میرے لیے اِس دنیا میں تیری مرضی کے مطابق جس قدر رہنا مقدر تھا وہ میں رہ چکا۔ میری عمر کا جو سرمایہ تھا وہ اب میں تیرے سپرد کر رہا ہوں۔ تو دانی حساب کم و بیش را تو چاہے تو میرے اِس سرمایہ کو تباہ کر دے اور چاہے تو قائم رکھ۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنے کرم سے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اِس سرمایہ کو قائم رکھے۔ دشمن نے چاہا کہ وہ اس کے اندر بگاڑ پیدا کر دے مگر وہ ہمیشہ منہ کی کھاتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت میں موعود علیہ الصلوة والسلام جب فوت ہوئے ہیں میں اُس وقت پاس ہی تھا۔ میں نے دیکھا کہ بعض احمدی کہلانے والے بھی اُس وقت گھبراگئے۔ لاہور کا ہی ایک شخص تھا جو اب فوت ہو چکا ہے بلکہ بعد میں وہ مرتد بھی ہو گیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں وہ میں وہ مخلص احمدی تھا میں نے دیکھا کہ وہ گھبرایا ہوا کبھی کمرہ کے اندر جاتا تھا اور کبھی باہر نکلتا تھا اور کہتا تھا اب کیا ہو گا؟ اب کیا ہو گا؟ میری عمر اس وقت انیس سال کی تھی اور میری تعلیم کچھ بھی نہ تھی۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو میری بیوی اُس سے کچھ دن پہلے مجھ سے اجازت لے کر اپنے والدین سے ملنے کے لیے میکے