خطبات محمود (جلد 25) — Page 133
$1944 133 محمود گئی ہوئی تھیں۔والدین کا لفظ صحیح نہیں صرف اُن کی والدہ وہاں تھیں اور وہ اُن سے ملنے کے لیے گئی تھیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شدت بیماری میں ہمارے نزد یک وقفہ پیدا ہوا اور در حقیقت یہ وہ حالت ہوتی ہے جب مرنے والے کی طبیعت موت کا مقابلہ کر کے تھک جاتی ہے اور بظاہر اطمینان کی حالت نظر آنے لگتی ہے اُس وقت میں وہاں سے چل پڑا تا کہ ان کو لے آؤں۔جس وقت میں چلا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چار پائی اُس کمرہ میں جدھر سے اندر داخل ہوتے ہیں دیوار کے قریب تھی۔میں نے زور دے کر اور ہمشکل، کیونکہ عورتیں ایسے مواقع کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتیں اُن کو واپس بلایا۔بلکہ مجھے اس وقت ایک حد تک ایسی سختی بھی کرنی پڑی جو میری عام طبیعت کے خلاف تھی۔میرے سسرال والوں نے کہا کہ ہم ابھی ان کو نہیں بھیج سکتے کچھ دنوں کے بعد بھیج ہے دیں گے۔میں نے اُس وقت، یہاں تک لفظ کہہ دیئے کہ اگر یہ اس وقت میرے ساتھ نہیں جائیں گی تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی حالت نازک ہے میں انہیں وہاں ہے سے طلاق بھیج دوں گا۔خیر وہ میرے ساتھ چل پڑیں۔جب میں واپس پہنچا تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری سانحے تھے۔میرے دل میں سخت اضطراب تھا کہ میں سمجھتا تھا میری بیوی کے لیے یہ بڑی نحوست کی بات ہو گی اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری گھڑیوں میں وہ یہاں نہیں ہو گی اور میرے دل میں یہ ڈر تھا کہ میں جو اتنی قربانی کر کے چلا ہوں ایسا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیچھے ہی فوت ہو جائیں۔جب میں پہنچا ہوں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چار پائی ہے بدل کر دیوار کا جو مقابل کا حصہ تھا وہاں رکھ دی گئی تھی۔میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ہے بہر حال وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری لمحے تھے اور آپ کے ارد گرد ہے مرد ہی مرد تھے۔مستورات وہاں سے ہٹ گئی تھیں۔چار پائی کے تینوں طرف مرد کھڑے تھے۔میں وہاں جگہ بنا کر آپ کے سرہانے کی طرف چلا گیا یا شاید وہاں نسبتا کم آدمی ہوں۔میں میں وہاں کھڑا ہوا اور میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی آنکھ کھولتے ، ادھر اُدھر پھیرتے اور پھر بند کر لیتے۔پھر کھولتے ، اُن کی پتلیاں اِدھر اُدھر مڑتیں اور