خطبات محمود (جلد 25) — Page 131
خطبات محمود 131 $1944 ایسی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس مکہ کو خدا نے صرف آج کے دن صرف دو گھڑیوں کے لیے صرف میری خاطر حلال کیا ہے ورنہ اس شہر پر حملہ کرنا اور یہاں کی کسی چیز کو نقصان پہنچانا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔دو ہزار سال کے لمبے عرصہ شرک کے بعد بھی مکہ مکرمہ کی تقدیس میں فرق نہیں آیا۔دو ہزار سال کے لمبے عرصہ شرک کے بعد بھی مکہ مکرمہ کی عزت اور اُس کے احترام میں فرق نہیں آیا۔کیونکہ خدا نے اس کو اپنے عذاب کا شہر قرار نہیں دیا تھا۔مدینہ منورہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہائش پذیر ہوئے اور وہ قیامت تک منورہ ہی کہلائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے آخری نبی اور اس کے محبوب ترین وجو د نے اس جگہ پر بسیرا کیا۔گو بعد میں وہاں خرابیاں بھی ہوئیں، وہاں کے لوگ بگڑے بھی، دین کی طرف سے انہوں نے بے رغبتی کا بھی اظہار کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو ہمیشہ کے لیے بابر کت کر دیا۔تو جب کسی جگہ پر خدا کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس شہر والوں کی ذمہ داریاں اور اُس شہر والوں کی برکات بھی بڑھ جایا کرتی ہیں۔سوائے اس کے که قرآن کریم کے اس حکم کے ماتحت کہ ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم 23 جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کوئی فضل نازل کرتا ہے تو جب تک وہ اپنے دلوں کو بگاڑ ہے نہیں لیتے، خدا بھی اپنے سلوک میں بگاڑ پیدا نہیں کرتا۔وہ اپنے اعمال میں بگاڑ پیدا کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی حکمت کے ماتحت مجھ پر جو لاہور میں موجودہ انکشاف کیا ہے اُس سے لاہور کی جماعت کی ذمہ داریوں اور ساتھ ہی ان کی امداد کے وعدے کا بھی اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے۔کیونکہ یہ خدا کی سنت کے خلاف ہے کہ وہ ایک چیز کو اپنے کلام اور اپنی رحمت کے لیے مخصوص کرے اور پھر اُسے یو نہی بھول جائے۔لوگ بھول جاتے ہیں لیکن خدا نہیں بھولتا جب تک بندے اُس کو نہیں بھول جاتے۔بعض مقامات ایسے ہوتے ہی ہیں جیسے مکہ مکرمہ ہے یا جیسے مدینہ منورہ ہے یا جیسے قادیان ہے کہ یہاں کے رہنے والے اگر خدا کو بھول جائیں تب بھی یہ شہر مغضوب نہیں بن سکتے۔وہ ان لوگوں کو تو سزا دے دے گا