خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 750 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 750

خطبات محمود 750 $1944 جس پر اس کا کوئی احسان نہیں اور اس لیے آگے بڑھ کر اسے روک دیا۔تو اب یہ کونسا حکم تھا کہ اگر کوئی کافر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کرتے ہوئے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا دے تو اُسے روکا جائے۔یہ صرف محبت کا ہی تعلق تھا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منع فرماتے تب بھی صحابہ کے دل اس موقع پر اُبلنے ضروری تھے۔آخر جب معاہدہ تحریر کیا جانے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھوایا کہ میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہوں۔اس پر اُس شخص نے اعتراض کیا اور کہا کہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو پھر کسی معاہدہ کی ضرورت ہی کیا تھی۔پھر تو ہم آپ پر ایمان ہی لے آتے۔پس اس معاہدہ میں جو دو فریقوں کے درمیان ہو رہا ہے رسول اللہ لکھنے کے کیا معنے ہیں۔یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھنے والے سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ کاٹ کر اس کی بجائے محمد بن عبد اللہ لکھ دو۔حضرت علی لکھنے والے تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ میں تو رسول اللہ کا لفظ کاٹنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اب یہاں تو حکم بھی تھا کہ یہ لفظ کاٹ دو مگر حضرت علی کی محبت نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے فرمایا کہ لاؤ کاغذ مجھے دو اور اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کا لفظ کاٹ دیا۔ے تو یہاں بظاہر حکم بھی تھا مگر اس حکم کے ہوتے ہوئے بھی حضرت علیؓ اسی رستہ پر چلے جو محبت اور ادب کا رستہ تھا۔مگر چونکہ کفار کا یہ اعتراض صحیح تھا کہ اگر ہم آپ کو اللہ تعالی کا رسول مانتے تو پھر آپ سے کوئی معاہدہ ہی کیوں کرتے۔معاہدہ کرنے کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے اس لیے اس معاہدہ میں وہ لفظ نہیں لکھا جانا چاہیے جو ہم مانتے ہی تم نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن الفاظ کو خود کاٹ دیا۔یہ آپ کا انصاف تھا۔مگر آج احرار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ میں یہ وطیرہ اختیار کرے رکھا ہے کہ جب امرتسر کے جلسہ میں ایک معزز سکھ نے حضرت محمد صاحب کہا تو وہ گالیاں دینے لگ گئے کہ حضرت محمد صاحب کیوں کہتے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں نہیں کہتے ؟ حالانکہ اُن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا نمونہ موجود تھا کہ جب کفار نے رسول اللہ کے لفظ پر اعتراض کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا۔